الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مشت زنی کرنا قرآن وسنت کی نصوص کی رو سے حرام ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (المؤمنون:5۔7)
اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
اللہ تعالی نے مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے بیوی اور لونڈی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشت زنی کرنا حدود الہی سے تجاوز ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نوجوان رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہا کرتے تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ (صحيح البخاري، النكاح: 5066)
نوجوانو! جو کوئی تم میں سے نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ نکاح کا عمل آنکھ کوبہت زیادہ نیچے رکھنے والا اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والا ہے۔ اور جو کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا، اسے روزے رکھنے چاہییں کیونکہ یہ اس کے لیے شہوت توڑنے والے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں شادی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، اگر مشت زنی کرنا جائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہنمائی فرما دیتے۔
1. اللہ تعالی آپ کے اہل خانہ کو صحت وتندرستی عطا فرمائے۔ آپ اپنی شہوت کو کنٹرول کرنے کے لیے روزے رکھیں، جس سے اللہ تعالی آپ کو عظیم اجر عطا فرمائے گا اور شہوت بھی قابو میں رہے گی۔
2. انسان بیوی کے ہاتھ سے بھی منی کا اخراج کروا سکتا ہے، یہ حلال ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے بیوی سے لذت حاصل کرنا جائز قرار دیا ہے، مذکورہ بالا آیت مبارکہ اس کی دلیل ہے ۔
والله أعلم بالصواب.