الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنا سارا مال یا مال کا کچھ حصہ کسی کو گفٹ کر دے، اگر درج ذیل شرطیں پائی جائیں:
1. اس نے تندرستی کی حالت میں گفٹ دیا ہو ۔
2. اس کے گفٹ کرنے کا مقصد وارثوں کو نقصان پہنچانا نہ ہو۔
3. اگر اولاد کو گفٹ کیا ہو تو ان میں برابری کرنا ضروری ہے۔
4. اپنے اہل خانہ کا نان ونفقہ رکھ کر ہبہ کرے، ایسا نہ ہو کہ سارا مال گفٹ کر کے خود لوگوں سے مانگنا شروع کر دے، یا اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے سے ہی عاجز آجائے۔
اگر اس نے اس بیماری میں کسی کو کوئی چیز گفٹ کی ہے جس میں اس کی وفات ہو گئی ہے تو اس کا یہ تصرف صحیح نہیں ہو گا۔
ایسے ہی اگر اس کے گفٹ کرنے کا مقصد وارثوں کو نقصان پہنچانا تھا پھر بھی اس کا گفٹ کرنا جائز نہیں ہوگا، وہ مال وارثوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
انسان اولاد کو اپنی زندگی میں جو مال دیتا ہے وہ عطیہ اور گفٹ ہوتا ہے، اور اولاد کو گفٹ دیتے وقت ان میں برابری کرنا ضروری ہے۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کچھ مال دیا تو میری ماں نے کہا کہ میں اس وقت تک خوش نہیں ہوں گی جب تک آپ (بشیر رضی اللہ عنہ) اس مال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لیں؟ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ. (صحيح البخاري، الهبة وفضلها والتحريض عليها: 2587، صحيح مسلم، الهبات: 1623).
کیا تو نے اپنی ساری اولاد کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے؟ (یعنی تو نے سب کویہ مال دیا ہے)، تو میرے والد نے کہا : نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ سے ڈر جاؤ ( تقوی اختیار کرو) اوراپنی اولاد کے مابین عدل کرو۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے باپ نے مجھ سے وہ گفٹ واپس لے لیا۔
بعض احادیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا:
أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ:فَلَا إِذًا (الأدب المفرد:69). (صحيح).
کیا تجھے اچھا نہیں لگتا کہ وہ ( تير ی اولاد) تیرے ساتھ حسن سلوک میں بھی برابر ہوں؟ تو انہوں نے کہا: بالکل، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا نہ کر۔
1. اس لیے اگر والد دیگر وارثوں کو اپنی جائیداد سے محروم نہیں کرنا چاہتا تو وہ اپنی جائیداد اولاد کے مابین تقسیم کر سکتا ہے اور یہ اس کی طرف سے اولاد کو گفٹ ہوگا جس کی تقسیم میں مرد اورعورت کے مابین فرق نہیں کیا جائے گا بلکہ جتنی جائیداد بیٹے کو دی جائے گی اتنی ہی بیٹی کو ملے گی۔
والله أعلم بالصواب.