سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نوکری حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولنا
  • 6181
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-25
  • مشاہدات : 96

سوال

نوکری حاصل کرنے کے لئے اپنی پُرانی تنخواہ کچھ ہزار بڑھا کر بتانا صحیح ہے یا نہیں؟ جیسے کسی کی تنخواہ اگر ٢٥٠٠٠ ہے اور وہ کہے کہ میں ٣٠٠٠٠ سے زیادہ تنخواہ لیتا تھا تو ایسا کرنا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا : إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ. (صحيح البخاري، الإيمان: 34، صحيح مسلم، الإيمان: 58).

چار (خصلتیں) جس انسان میں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے، اور جس میں ان (چار) میں سے کوئی ایک پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جا چکی ہے حتی کہ وہ اسے چھوڑ دے، جب اسے( منافق کو) امانت دی جاتی ہے خیانت کرتا ہے، جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے، جب لڑائی ہو جائے تو گالی گلوچ کرتا ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید کے متعدد مقامات میں سچ بولنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے انسان کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، سچ بولنے میں ہی انسان کے لیے خیر ہے۔ نوکری حاصل کرنے کے لیے بھی سچ بولنا ضروری ہے، سچ بولنے سے آپ کے لیے نوکری میں خیر ہوگی اور بھلائی میسر آئے گی۔ جھوٹ بولنا منافق کی علامتوں میں سے ہے، جس سے بچنا واجب ہے۔

ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

عملی نفاق آہستہ آہستہ انسان کو اعتقادی نفاق کی طرف لے جاتا ہے، جیسے اللہ تعالی کی نافرمانی کفر تک پہنچا دیتی ہے، جو شخص مسلسل اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا رہتا ہے خدشہ ہے کہ اسے کفر کی حالت میں موت آئے، اور جو شخص منافقین کی صفات اپنائے رکھتا ہے خدشہ ہے کہ موت کے وقت وہ اعتقادی منافق بن چکا ہو۔ (جامع العلوم والحكم (2/492-493).

والله أعلم بالصواب.

تبصرے