سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نابالغ بیٹی کا نکاح کرنا
  • 6175
  • تاریخ اشاعت : 2025-12-30
  • مشاہدات : 68

سوال

ایک باپ نے اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کسی شخص کے ساتھ کر دیا۔ بیٹی بالغ ہو چکی ہے، اب باپ نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی اس لڑکے سے شادی کرے اور نہ ہی لڑکی راضی ہے۔ اب یہ لڑکی کیا کر ے؟ جس سے نکاح ہوا ہے وہ طلاق نہیں دیتا۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

باپ  نابالغ بیٹی کا نکا ح کر سکتا ہے، باپ کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نابالغ بچی کا نکاح کرے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ (الطلاق: 4)

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے نا امید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہےاور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

 اللہ تعالی نے اس آیت مبارکہ میں حیض آنے سے قبل طلاق پانے والی بچی کی عدت ذکر کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالغ نہیں ہے، اور اس وقت تک طلاق یا فسخ نکاح نہیں ہوتا جب تک عقد نکاح درست نہ ہو۔

 لیکن نابالغ بیٹی کے نکاح کے حوالے سے چند امور کا لحاظ کرنا واجب ہے:

1. نکاح بیٹی کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے، باپ یا کسی اور کے مفاد کا لحاظ نہ کیا جائے۔

2. بیٹی اور والد کے درمیان کوئی دشمنی نہ ہو۔

3. بیٹی اور ہونے والے خاوند کے درمیان کوئی دشمنی نہ ہو۔

4. باپ ایسے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی نہ کرے جس  کی وجہ سے اس  کو نقصان پہنچنا بالکل واضح ہو، جیسے انتہائی بوڑھے  شخص سے نکاح کر دینا۔

5. ایسے شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرے جو حق مہر اور دیگر حقوق کی ادائیگی ذمے داری کے ساتھ کرے۔

6. چھوٹی بچی کیساتھ نکاح کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ خاوند کیساتھ اس کی رخصتی بھی کر دی جائے، لہذا رخصتی اسی وقت ہوگی جب وہ جماع کے قابل ہو جائے گی.

واضح رہے کہ بلوغت کیساتھ جماع کا کوئی تعلق نہیں ہے، جس وقت بھی بچی جماع کے قابل ہو جائے گی  اس کی رخصتی کرنا جائز ہے۔

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس بیٹی کا نکاح اس مر د کے ساتھ ہو چکا ہے، اب وہ اس کے نکاح میں ہے،اگر وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو خلع لے سکتی ہے، لیکن بغیر کسی معقول وجہ کے عورت کا خاوند سے خلع کا مطالبہ کرنا حرام ہے۔

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة (سنن أبي داود، الطلاق: 2226) )صحيح)

جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔

اگر کوئی معقول وجہ ہو، جیسے مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے سے عاجز ہے، یا اس پر ظلم کرتا ہے یا عورت مرد کو بدصورتی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہے یا خاوند فاسق وفاجر ہو، جو باربار نصیحت کرنے کے باوجود نہیں سمجھتا تو عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔اس صورت میں مرد کو خلع قبول کر نے کا کہا جائے گا، اگر وہ خلع قبول کرنے سے انکار کر دے تو عدالت کے ذریعہ بھی خلع لیا جا سکتا ہے۔

سیدنا  عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً (صحيح البخاري، الطلاق: 5273)

کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر سکتی ہو؟“ اس نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ثابت  رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”باغ قبول کر کے اس کو آزاد کردو۔

لہذا اگر  مذکورہ صورت حال میں بیٹی کسی معقول وجہ کی بنا پر خلع کا مطالبہ کرر ہی  ہے،  لیکن خاوند خلع نہیں دے رہا تھا تو عدالت نکاح کو ختم کر سکتی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے