سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر انسان حوش وہواس میں نہ ہو، تو کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
  • 6171
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-27
  • مشاہدات : 46

سوال

میں نے ایسی حالت میں طلاق دی ہے جب میں اپنے پورے شعور میں نہیں تھا۔ شدید دباؤ کا شکار تھا۔ میرا ذہن اور اعصاب کام چھوڑ چکے تھےاور جو کچھ ہوا مجھے اس کا بڑا حصہ یاد بھی نہیں۔ میری ذہنی حالت ایسی ہے کہ اگر مجھے نیند پرسکون نہ ملے تو اگلے دن میری یاداشت ایسی رہتی ہے جیسے رات بھر سفر کیا ہو، میں کھویا کھویا رہتا ہوں اور زہن مکمل حاضر نہیں رہتا۔ اس دن مجھے ذہنی کاموں میں دشواری ہوتی ہے۔ ایسے ہر دفعہ نہیں ہوتا لیکن کبھی کبھی زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرا مسئلہ گرمی کا ہے، مجھے عام آدمی کی نسبت زیادہ گرمی لگتی ہے۔ معمولی گرمی کی وجہ سے میرا ذہن غیر حاضر رہتا ہے، جیسے اوپر بیان ہوا ہے، اعصاب میں افراتفری اور ہیجان رہتا ہے۔ میرا پورا جسم اور پاؤں جلتے ہیں۔ میرا تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اچانک اندھیرہ ہو جائے اور اس میں روشنی کیلئے ٹارچ رکھی ہو تو لائیٹ آنے تک میرے اعصاب نارمل نہیں ہوتے اور الجھن محسوس ہوتی ہے۔ چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ جب مجھے نزلہ ہو جاتا ہے تب بھی میری وہی حالت ہوتی ہے جو نیند کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مجھے کندھوں اور سر پر پیسنہ باقی دنوں سے زیادہ ہوتا ہے اور کیفیت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی بخار میں بھاری گولیاں کھا لے اور اس کا ذہن اور سوچ میں ربط نہ ہو۔ یہی کیفت مجھے نزلہ اور رعشہ کی وجہ سے پچھلے کچھ دن سے لاحق ہے۔ جب میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا میں مذکورہ بالا تمام حالات کا شکار تھا۔ ایسی حالت میں نارمل اور ہلکے معاملات طے کر سکتا ہوں، لیکن انتہائی اور بھاری فیصلے اور زہنی دباؤ والے کام میں مجھے بہت دقت اٹھانی پڑتی ہے اور جیسے جیسے دباؤ بڑھتا ہے ذہن غیر حاضر ہوتا جاتا ہے۔ تکرار کے وقت چاروں چیزیں مجھ پرغالب تھی۔ میری بیوی میرے پاس آئی اور معمولی بحث سے آغاز ہوا، جو شدت اختیار کرتا گیا۔مسلسل دلائل اور سمجھانے کیلئے مجھے کافی قوت لگ رہی تھی۔ کمرے میں جزوی اندھیرا اور روشنی آجارہی تھی۔بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گرمی شدید تھی۔ بحث کوکوئی دس منٹ گزرے ہوں گے کہ معاملہ شدت اختیار کرگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بس اب جو تم کہہ رہی ہو، یہ کفر ہے۔اس سے پہلے کہ میں کوئی سخت قدم اٹھاؤں، یا میرے منہ سے غلط الفاظ نکلیں، یہاں سے چلی جاؤ۔ یہاں میری دھڑکن بہت تیز ہوگئی تھی۔ میرا جسم کانپ رہا تھا۔ میرے لئے الفاظ کی ادائیگی مشکل ہو چکی تھی ۔وہ اٹھی اور چلی گئی۔ یہا ں سے آگے کیا ہوا، کیسے ہوا، مجھے کچھ یاد نہیں یاد کہ کیا ہوا؟ اس نے کیا الفاظ کہے مجھے یاد نہیں۔میں فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پیچھے دروازے تک گیااور کہا تم مجھ پر طلاق ہو،تم یہی چاہتی تھی، تو ہو گئی طلاق۔ وہ حیران دروازے میں کھڑی دیکھتی رہی۔ گھر کی خواتین دور کھڑی تھیں۔ میں نے ان کو کہا میں نے اسے طلاق دے دی ہے اور متعدد بار طلاق کہا۔ میرے لئے کھڑا ہونا ممکن نہ تھا۔ میں گرنے کے قریب تھا، لہذا فوری پانی پیا اور بیٹھ گیا۔ پھر سارے گھر والے جمع ہو گئے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا جب انسان مکمل حوش و ہواس میں نہ ہو، ذہن مکمل حاضر نہ ہو اور دھڑکن نارمل نہ ہو، تو کیا طلاق واقع ہو گئی؟ اس حالت میں کوئی بھی دنیاوی کام یا فیصلہ کرتا تو یقینا خراب ہی ہوتا، جسے میں منسوخ کرتا، یا ازالہ کرتا۔ فی الحال ہم نے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور گھر الگ کردیا ہے۔ فتوی کے جواب کے بعد مجھے فیصلہ کرنا ہوگا۔ چونکہ میں پہلے دو طلاق دے چکا ہوں لہذا میرا سوال صرف اس آخری طلاق کے متعلق ہے اگرآپ کی طرف سے ضرورت ہوئی تو پہلی طلاق کی تفصیل بھی بھیج دونگا۔ اگر یہ طلاق واقع ہوئی یا نہ ہوئی، دونوں صورتوں میں وہ ہمارے الگ گھر میں چار بچوں کیساتھ رہے گی، لیکن اگر واقع نہیں ہوتی، تو میرے لیے پردے کا مسئلہ نہیں ہوگا۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل  بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک عقل مند انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ذ را سی بات پر اتنا غصے میں آ جائے کہ منہ سے طلاق کا لفظ نکال کر خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کو ختم  کردے۔

اس لیے اگر خاوند اور بیوی کا آپس  میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ جب تمام کوششوں کے باوجود رشتہ نبھانا ممکن نہ ہو تو اسلام نے خاوند کو طلاق کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔

1. آپ اپنی بیوی کو پہلے دو طلاقیں دے چکے ہیں، یہ تیسرا موقع ہے جب آپ نے  اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔ اگر آپ کا غصہ اتنا زیادہ تھا کہ آپ کے اعصاب قابو میں نہ رہے، شدت غضب، مکمل ہوش وحواس میں نہ ہونے اور ذہنی حالت  کی وجہ سے دماغ پر آپ کا کنڑول نہ تھا۔ آپ کو بالکل  شعور اور احساس نہیں تھا کہ آپ اپنی زبان سے کیا کہہ رہے ہیں، تو پھر آپ کی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لا طَلاَقَ ولا عِتَاقَ في غَلاَق (سنن أبي داود،طلاق: 2193) (صحيح).

اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ہوتى ہے۔

اہل علم كى ايك جماعت نے " اغلاق " كا معنى اكراہ يعنى جبر يا غصہ كيا ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو جس وجہ سے اس کے اعصاب بے قابو ہو جائیں تو یہ شخص پاگل اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہے، اس كى طلاق واقع نہيں ہوگى۔

1. اگر آپ ہوش وحواس میں تھے، اور آپ کو ادراک تھا کہ آپ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کر رہے ہیں تو پھر آپ کی بیوی کو تیسری طلاق ہو چکی ہے۔ اب وہ آپ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکی ہے۔  وہ اپنی عدت گزارے گی اور ہمیشہ کے لیے آپ سے الگ ہو جائے گی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (البقرة: 230).

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ القرظی نے ایک عورت سے شادی کی اور اسے تیسری اور آخری طلاق بھی دے دی ، اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کر لی، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اس نے جس مرد سے شادی کی ہے وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ عورت دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ (صحيح البخاري، الطلاق:  5317 )، صحيح مسلم، النكاح: 1433)

نہیں (یعنی تو واپس رفاعہ کے پاس نہیں جا سکتی) حتی کہ تو اس کا مزہ چکھے اور وہ تیرا مزہ چکھے۔

1. مندرجہ بالا آیت اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت اپنے سابقہ خاوند کے لیے صرف اسی صورت حلال ہو سکتی جب وہ اپنی رغبت سے، گھر بسانے کی غرض سے کسی مرد سے شادی کرے اورمرد کی نیت بھی گھر بسانے کی ہی ہو، سابقہ خاوند کے لیے اس عورت کو حلال کرنا مقصد نہ ہو، ان دونوں کے ازدواجی تعلقات قائم ہوں، پھر دوسرا خاوند کسی سبب کی بنا پر اپنی بیوی کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو یہ عورت سابقہ خاوند کے لے حلال ہو جائے گی اور وہ اس سے دوبارہ نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے