سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نکاح میں دھوکہ دہی، ناہم آہنگی اور علیحدگی کا شرعی حکم
  • 6167
  • تاریخ اشاعت : 2025-09-06
  • مشاہدات : 159

سوال

میری شادی نیک نیتی سے ہوئی،لیکن شادی کے فوراً بعد مجھے معلوم ہوا کہ لڑکی کے خاندان نے کچھ اہم باتیں چھپائی تھیں، جن میں اُس کی اصل عمر،کمزور بینائی، اور کچھ طبی مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے شادی کے لیے جلدی کرنے پر بھی زور دیا، جس کی وجہ سے مجھے اچھی طرح غور کرنے کا وقت نہیں ملا۔ اب کچھ وقت گزارنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ ہم ذہنی، جذباتی، اور شخصی طور پر ایک دوسرے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ میں نے صبر کی کوشش کی، مگر میں اُس کے لیے دل میں کوئی جذبات پیدا نہیں کر پا رہا۔ ہماری بات چیت مصنوعی محسوس ہوتی ہے، اور میں خود کو جذباتی طور پر دُور محسوس کرتا ہوں۔ یہ صورتِ حال میرے لیے مسلسل ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا باعث بن رہی ہے۔ مجھے گناہ کا احساس بھی ہوتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے کوشش کر رہی ہے، لیکن میں اُس سے جُڑ نہیں پا رہا۔ مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ اگر میں یہ رشتہ ختم کر دوں تو کہیں وہ دُکھ نہ اُٹھائے یا مجھے گناہ نہ ہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں، یعنی خاندان کی طرف سے دھوکہ، بیماریوں کو چھپانا، شادی پر دباؤ ڈالنا، اور گہری نا ہم آہنگی اگر میں عزت کے ساتھ یہ نکاح ختم کرنا چاہوں تو کیا اسلام میں مجھے گناہ ہوگا؟ شریعت کے مطابق میرے لیے صحیح فیصلہ کیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر عورت کے گھر والوں نے شادی سے پہلے عورت میں موجود  کسی ایسے عیب کو چھپایا ہو جس عیب کو انسان طبعی طور پر ناپسند کرتا ہے، اور نہ ہی اس کا علاج ممکن ہو، تو شرعی طور پر خاوند کو اختیار حاصل ہے کہ عورت کو اس عیب کے ساتھ ہی قبول کر لے یا طلاق دے کر نکاح  کو ختم کر دے ۔ 

نکاح کو ختم کرنے کی صورت میں حق مہرعورت کی ملکیت میں ہی رہے گا، لیکن جو عیب چھپانے کا ذمہ دار ہے، خاوند  اس سے حق مہر کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

 

آپ نے جو اصل عمر چھپانے یا  کمزور بینائی کا تذکرہ کیا ہے، یہ ایسے عیوب میں سے نہیں ہیں جس کی وجہ سے خاوند کو شرعی طور پر نکاح ختم کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے۔ آج کل کمزور بینائی کا علاج بھی کروایا جا سکتا ہے۔

طبی مسائل کی نوعیت آپ نے ذکر نہیں کی اس لیے اس بارے میں کسی حکم کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

آپ کو ہماری طرف سے یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ نیک نیتی کے ساتھ اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کریں۔ اپنے ذہن سے وہ باتیں نکال دیں جو آپ کے سسرال نے آپ سے چھپائی تھیں۔ جب آپ کی بیوی کا رویہ آپ کے ساتھ اچھا ہے اور وہ رشتے کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے تو آپ بھی محبت  سے رشتے کو قائم رکھنے کی کوشش کریں ۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء:19) 

اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انہیں نا پسند کروتو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے