الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر عورت کے گھر والوں نے شادی سے پہلے عورت میں موجود کسی ایسے عیب کو چھپایا ہو جس عیب کو انسان طبعی طور پر ناپسند کرتا ہے، اور نہ ہی اس کا علاج ممکن ہو، تو شرعی طور پر خاوند کو اختیار حاصل ہے کہ عورت کو اس عیب کے ساتھ ہی قبول کر لے یا طلاق دے کر نکاح کو ختم کر دے ۔
نکاح کو ختم کرنے کی صورت میں حق مہرعورت کی ملکیت میں ہی رہے گا، لیکن جو عیب چھپانے کا ذمہ دار ہے، خاوند اس سے حق مہر کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
آپ نے جو اصل عمر چھپانے یا کمزور بینائی کا تذکرہ کیا ہے، یہ ایسے عیوب میں سے نہیں ہیں جس کی وجہ سے خاوند کو شرعی طور پر نکاح ختم کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے۔ آج کل کمزور بینائی کا علاج بھی کروایا جا سکتا ہے۔
طبی مسائل کی نوعیت آپ نے ذکر نہیں کی اس لیے اس بارے میں کسی حکم کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
آپ کو ہماری طرف سے یہی نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ نیک نیتی کے ساتھ اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کریں۔ اپنے ذہن سے وہ باتیں نکال دیں جو آپ کے سسرال نے آپ سے چھپائی تھیں۔ جب آپ کی بیوی کا رویہ آپ کے ساتھ اچھا ہے اور وہ رشتے کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش بھی کر رہی ہے تو آپ بھی محبت سے رشتے کو قائم رکھنے کی کوشش کریں ۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء:19)
اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انہیں نا پسند کروتو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
والله أعلم بالصواب.