سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
میں یوکے میں رہتا ہوں۔ میری بیوی اسلام آباد میں ہے ۔ ہمارے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی جس کی وجہ سے میں نے غصے میں آکر بیوی کو میسج کر دیا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو ، میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔ میری بیوی حاملہ ہے۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا تین طلاقیں ہوگئی ہیں؟ کیا اب حلالہ ہی اس کا حل ہے؟ اب ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں اس بارے کیا حکم ہے ؟
  • 6166
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-19
  • مشاہدات : 278

سوال

میں یوکے میں رہتا ہوں۔ میری بیوی اسلام آباد میں ہے ۔ ہمارے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی جس کی وجہ سے میں نے غصے میں آکر بیوی کو میسج کر دیا کہ تم میری طرف سے فارغ ہو ، میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔ میری بیوی حاملہ ہے۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا تین طلاقیں ہوگئی ہیں؟ کیا اب حلالہ ہی اس کا حل ہے؟ اب ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں اس بارے کیا حکم ہے ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔ 

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل  بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر خاوند اور بیوی کا آپس  میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ 

شرعی طور پر دو طلاقیں رجعی ہیں، یعنی اگر خاوند نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے تو وہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، عدت گزر جائے تو  نئے سرے سے نکاح کرسکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے، اگر دوبارہ وہ اپنی بیوی کو دوسری طلاق دے دیتا ہے تو اسی طرح وہ  عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، عدت گزر جائے تو  نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

اگر اس نے تیسری طلاق بھی دے دی ہے تو اس کے پاس عدت کےدوران رجوع کرنے کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اب وہ عورت اپنی عدت گزارے گی اور ہمیشہ کے لیے اس سے الگ ہو جائے  گی۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡالطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ (البقرة: 229).

یہ طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

اور فرمایا:

ﱡفَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ القرظی نے ایک عورت سے شادی کی اور اسے تیسری اور آخری طلاق بھی دے دی ، اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کر لی، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اس نے جس مرد سے شادی کی ہے وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ عورت دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ. (صحيح البخاري، الطلاق:  5317 )، صحيح مسلم، النكاح: 1433.

نہیں (یعنی تو واپس رفاعہ کے پاس نہیں جا سکتی) حتی کہ تو اس کا مزہ چکھے اور وہ تیرا مزہ چکھے۔

 

مندرجہ بالا آیت اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت اپنے سابقہ خاوند کے لیے صرف اسی صورت حلال ہو سکتی جب وہ اپنی رغبت سے، گھر بسانے کی غرض سے کسی مرد سے شادی کرے اورمرد کی نیت بھی گھر بسانے کی ہی ہو، سابقہ خاوند کے لیے اس عورت کو حلال کرنا مقصد نہ ہو، ان دونوں کے ازدواجی تعلقات قائم ہوں ، پھر دوسرا خاوند کسی سبب کی بنا پر اپنی بیوی کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو یہ عورت سابقہ خاوند کے لے حلال ہو جائے گی اور وہ اس سے دوبارہ نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

 

حلالہ کروانا:

حلالہ کروانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، یہ غیر شرعی نکاح کے ذریعے عورت کو سابقہ خاوند کے لیے حلال کرنے کا حیلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت کی ہے اورحلالہ کرنے والے کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے، جیسا کہ  سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ. (سنن الترمذي، النكاح: 1120، سنن النسائي، الطلاق: 3416) (صحيح).

رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے (دونوں)  پر لعنت کی ہے۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ. (سنن ابن ماجه،:  1936) (صحيح). 

كیا میں کرائے کے سانڈ کے متعلق نہ بتاؤں (کہ وہ کون ہوتا ہے؟) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کہا: جی ہاں (بتائیے) اے اللہ کے رسول! فرمایا: وہ حلالہ کرنے والاہے، اللہ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے۔

 

بیوی کو میسج کے ذریعے طلاق دینا:

اگر انسان اپنی بیوی کو بول کر طلاق دیتا ہے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح اگر طلاق بالکل واضح لفظوں میں لکھ کر بھیج دیتاہے، اور اس کی نیت بھی طلاق دینے کی ہے، تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، کیونکہ انسان لکھ کر بھی اپنے ما فی الضمیر کا اظہار کرتا ہے، گویا کہ انسان کا قلم بھی اس کی زبان کی طرح ہے۔

اس لیے اگر آپ نے بالکل واضح  لفظوں میں طلاق لکھ کر بیوی کو میسج کیا ہے ، اور آپ کی نیت بھی طلاق دینے کی ہے تو طلاق واقع ہو چکی ہے۔

علماء کے ہاں اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر بیوی حاملہ بھی ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَا نَعْلَمُ خِلَافًا أَنَّ طَلَاقَ الْحَامِلِ إِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا طَلَاقُ سُنَّةٍ إِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً وَأَنَّ الْحَمْلَ كُلَّهُ مَوْضِعٌ للطلاق (الاستذکار، جلد 6، ص139)

ہمیں اس بارے میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ حمل ظاہر ہو جانے کے بعد حاملہ عورت کو طلاق دینے کا سنت طریقہ ہے اگر اس کو ایک طلاق دی جائے (اکٹھی تین طلاقیں نہ دی  جائیں) ، حمل کے دوران کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے۔

اکٹھی تین طلاقیں دینا:

قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے، ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔

 لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، لہذا اگر آپ نے اپنی بیوی کو میسج  میں یہ لکھ کر بھیجا ہے کہ تم میری طرف سے فارغ ہو ، میں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔  یہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی اور آپ  کو عدت کے دوران بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: 

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں  ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا، شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحاوي على الدر المختار: 2/105).

یاد رہے! وہ عورت جسے باقاعدگی سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگرعورت کو تین مرتبہ حیض آجائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﱠ. (البقرة: 228).

اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔

وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی ، ان کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﱠ . (الطلاق: 4).

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﱠ. (الطلاق: 4).

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ  وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

 

رجوع کا طریقہ کار:

خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا کسی اور کے سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں  ۔

اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی  رجوع ہو جائے گا۔ 

 

آپ نے میسج کے ذریعہ اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں ، اگر آپ نے پہلے کسی موقع پر اپنی بیوی کو  کوئی طلاق نہیں دی تو آپ کی بیوی کو ایک طلاق واقع ہو چکی ہے۔ آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں اور اگرعدت گزر گئی ہے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتے ہیں ، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے