سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اسلام مخالف نظریات سے توبہ کرنے کا طریقہ
  • 6163
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-25
  • مشاہدات : 121

سوال

میں پہلے شیعہ تھی اور اب الحمدللہ اہلحدیث ہوں اور الحمدللہ عقیدہ توحید پر ہوں۔ مجھ سے نادانی میں کچھ گناہ ہو گئے اب میں شرمندہ ہوں۔ اس کا کفارہ کیسے کر سکتی ہوں میں اپنے پچھلے عقیدہ کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کسی انسان کا عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے عقیدے کے خلاف ہو، جیسے   کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ قرآن مجید میں تحریف ہوچکی ہے، یا اس کا عقیدہ ہو کہ امام معصوم ہوتے ہیں، یعنی ان سے غلطی نہیں ہوسکتی اور وہ  نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں، پریشانیوں اور مصیبتوں میں ان کا پکارنا درست  ہے اور وہ مدد بھی کرتے ہیں، جیسے بہت سے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا سمجھ کر ان کو پکارتے ہیں، یا یہ عقیدہ رکھنا کہ چند  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے علاوہ باقی سارے مرتد ہو گئے تھے، یا اہل سنت کو کافر کہے، یا دیگر کفریہ اور شرکیہ نظریات رکھتا ہو اس کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام باطل عقائد سے رجوع کرے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے عقیدے کو اپنائے، توحید پرست بنے، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم سے محبت رکھے، قرآن کے بارے میں یہ عقیدہ بنائے کہ وہ ہر طرح کی تحریف سے پاک ہے ، اماموں کے بارے میں غلو سے کام نہ لے، الغرض اپنے تمام تر نظریات قرآن وسنت کے مطابق بنائے۔

اگر انسان پہلے غلط نظریات رکھتا تھا، پھر وہ تمام باطل نظریات سے رب کے حضور سچی توبہ کر لے اور اپنے عقیدے کو درست بنا لے، اپنے سابقہ نظریات پر پشیمان ہو، قرآن وسنت کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لے تو اللہ تعالی اس کی غلطیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا ۔ ان شاء اللہ

ارشاد باری تعالی ہے:

إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا (الفرقان:71)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَه. (سنن ابن ماجه، الزهد: 4250) (صحيح).

گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسا اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے