الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نماز میں دو مرتبہ تھوڑی دیر خاموشی اختیار کرتے تھے۔ پہلا وقفہ تھوڑا لمبا اور دوسرا نہایت مختصر ہوا کرتا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مرتبہ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد خاموش ہوتے ، اور دوسری مرتبہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض احادیث میں ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سورہ فاتحہ اور سورت پڑھنے کے بعد یعنی رکوع کرنے سے پہلے نہایت مختصر وقفہ کرتے تھے۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ سَكْتَةٌ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ السُّورَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَقَالَ كَذَبَ سَمُرَةُ فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَقَالَ صَدَقَ سَمُرَةُ (مسند أحمد: 20166)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دو مرتبہ سکوت فرماتے تھے ایک مرتبہ نماز کے آغاز میں اور ایک مرتبہ دوسری سورت پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے، یہ بات حضرت عمران بن حصین سے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا سمرہ رضی اللہ عنہ کو غلطی لگ گئی ہے، انہوں نے اس بارے میں ابی بن کعب کو خط لکھا وہ مدینہ منورہ میں تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ صحیح بیان کیا ہے۔
جبکہ سنن ابی داود اور دیگر کتب سنن کی بعض احادیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد خاموش ہوتے تھے، لیکن ان احادیث کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ امام پر لازم نہیں ہے کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولم نعلم نزاعاً بين العلماء أنه لا يجب على الإمام أن يسكت لقراءة المأموم بالفاتحة ولا غيرها (الفتاوى الكبرى، جلد 2، ص292)
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام پر واجب نہیں ہے کہ وہ مقتدی کو سورہ فاتحہ وغیرہ پڑھنے کی مہلت دینے کے لیے کچھ دیر خاموش رہے۔
اس مسئلہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول احادیث میں غور کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا وقفہ اتنا لمبا نہیں ہوا کرتا تھا، اس لیے اگر بالفرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا وقفہ سورہ فاتحہ کے بعد بھی کرتے ہوں تو وہ اتنا لمبا نہیں ہواکرتا تھا کہ اس میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی جا سکے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقفہ میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوتے تو یہ یات ضرور ان سے منقول ہوتی ، حالانکہ کسی بھی صحابی سے یہ بات مروی نہیں ہے کہ اس نے ذکر کیا ہو کہ ہم دوسرے وقفہ میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
اس لیے امام کا مقتدیوں کے سورہ فاتحہ پڑھنے کے لیے وقفہ کرنا مستحب اور افضل عمل نہیں ہے، ہاں اگر امام سانس لینے کے لیے یا کس سورت کی تلاوت کرنی ہے اس بارے میں غور کرنے کے لیے تھوڑا وقفہ لے لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
مقتدی کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنے کا کوئی معین وقت نہیں ہے وہ جب چاہے سورہ فاتحہ پڑھ سکتا ہے۔ امام سے پہلے پڑھ لے یا ساتھ ساتھ پڑھ لے ، یا اگر امام سانس لینے کی غرض سے تھوڑا وقفہ لے تب پڑھ لے۔ بعض اوقات امام دعائے استفتاح پڑھنے میں دیر کر دیتا ہے اس دوران بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
والله أعلم بالصواب.