الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر عورت اپنے خاوند کی اجازت اور اس کی خوشی کی خاطر بال کٹوا ئے یا اس کے بال زیادہ لمبے ہوں، جن کی دیکھ بھال میں اسے مشقت لاحق ہوتی ہے وہ اپنی مشقت کم کرنے کے لیے بال چھوٹے کروا لے، یا اس کے علاوہ کوئی معقول اور جائز وجہ ہو تو بال کٹوانے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی جس میں عورت کو بال کاٹنے سے منع کیا گیا ہو، بلکہ جواز کے دلائل موجود ہیں۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں:
كَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ (صحیح مسلم، الحیض: 320)
نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات اپنے سر (کے بالوں) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ (کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال) کی طرح ہو جاتے۔
درج ذيل حالتوں میں عورت کا بال چھوٹے کروانا حرام ہے:
اگر عورت خاوند کی اجازت کے بغیر بال کٹوالے۔
اگر وہ اپنے بالوں کو اجنبی اور غیر محرم لوگوں کے سامنے کھلا رکھے۔
کسی اجنبی مرد سے بال کٹوانا حرام ہے۔
اگر وہ بال اتنے زیادہ کاٹ لے کہ مردوں کے بالوں کے مشابہ ہو جائیں تو اس کے حرام ہونے میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ (صحيح البخاري، اللباس: 5885)
رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی چال ڈھال اختیار کریں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردوں کی مشا بہت کرتی ہیں ۔
اگر عورت اپنے بالوں کو کٹوا کر کافر اور حیا باختہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرنا چاہتی ہو۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن أبي داود، اللباس: 4031) )صحيح)
جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا۔
والله أعلم بالصواب.