سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
میں نے ڈرانے کے لئے اپنی بیوی کو یہ جملہ بولا ’’تم فارغ ہو میری طرف سے‘‘ ، کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟
  • 6158
  • تاریخ اشاعت : 2026-01-05
  • مشاہدات : 480

سوال

میری بیوی مجھ سے ناراض ہو کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی تھی اور مجھ سے بات چیت کرنا بھی مکمل طور پر ختم کردی تھی۔ میں نے اسے ڈرانے کے لئے یہ جملہ بولا ’’تم فارغ ہو میری طرف سے‘‘ ، کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:

1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو، جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔

2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا  کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔

 

آپ نے اپنی بیوی کو جو یہ جملہ ’’تم فارغ ہو میری طرف سے‘‘ بولا ہے ، یہ کنایہ ہے ۔ طلاق کے معنی میں بالکل واضح نہیں ہے ۔ اس لیے اس جملے کو بولتے وقت آپ کی نیت کا اعتبار ہو گا ، آپ بیان کر رہے ہیں کہ آپ نے محض ڈرانے کے لیے یہ جملہ بولا ہے یعنی آپ کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی ۔ اس لیے آپ کی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

خاوند اور بیوی کا باہمی رشتہ محبت ومودت کی بنا پر قائم ہوتا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کا لحاظ کرنا چاہیے۔ آپ کو بھی چاہیے کہ باہمی جھگڑوں کو حکمت ودانائی کے ساتھ سلجھائیں، باربار طلاق کی دھمکی دینے سے باہمی محبت اور احترام کم ہو جاتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے