سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا نواسے کے نام زمین رجسٹر کروا دینا جائز ہے؟
  • 6156
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-23
  • مشاہدات : 140

سوال

میرے نانا کی ایک ہی بیٹی تھی جو میری والدہ ہے ۔ ہم دو بھائی ہیں۔ نانا نے اپنی زندگی میں زمین کا کچھ ٹکڑا میرے بڑے بھائی کے نام کر دیا تھا۔ اب میری امی اور نانا دونوں فوت ہو چکے ہیں۔ شرعی طور پر وہ زمین میرے بھائی کی ہو گی یا نانا کے بھائیوں کی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنا سارا مال یا مال کا کچھ حصہ کسی کو گفٹ کر دے، اگر درج ذیل  شرطیں پائی جائیں:

  1. اس نے  تندرستی کی حالت میں گفٹ دیا ہو ۔
  2.   اس کے گفٹ کرنے کا مقصد وارثوں کو نقصان پہنچانا  نہ ہو۔
  3. اگر اولاد کو گفٹ کیا ہو تو ان میں برابری کرنا ضروری ہے۔
  4. اپنے اہل خانہ کا نان ونفقہ رکھ کر ہبہ کرے، ایسا نہ ہو کہ سارا مال گفٹ کر کے خود لوگوں سے مانگنا شروع کر دے ، یا اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے سے ہی عاجز آ جائے۔

اگر اس نے اس  بیماری میں کسی کو کوئی چیز گفٹ کی ہے جس میں اس کی وفات ہو گئی ہے تو اس کا یہ تصرف صحیح نہیں ہو گا۔

 ایسے ہی اگر اس کے گفٹ کرنے کا مقصد وارثوں کو نقصان پہنچانا  تھا پھر بھی اس کا گفٹ کرنا جائز نہیں ہو گا، وہ مال وارثوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

1. جو زمین آپ کے نانا نے آپ کے بڑے بھائی کے نام رجسٹر کروائی تھی ، اگر نانا نے اپنی زندگی میں ہی آپ کے بھائی کو اس کا قبضہ دے دیا تھا ، وہ اس زمین کا مالک بن چکا تھا وہ اس میں جو کرنا چاہے کر سکتا تھا،  تو یہ گفٹ تھا جس کے صحیح ہونے کے لیے مذکورہ بالا شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔

2. اگر نانا نے اپنی زندگی میں آپ کے بھائی کو قبضہ نہیں دیا تھا ، تو اس کا حکم وصیت کا ہوگا، جو ایک تہائی سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ نانا کی باقی جائیداد اور اس زمین کی مالیت لگائی جائے گی، اگر یہ زمین کل مال کا ایک تہائی یا ایک تہائی سے کم بنتی ہو تو یہ وصیت صحیح ہو گی ورنہ صرف ایک تہائی تک وصیت کو نافذ کیا جائے گا، یعنی نانا کی کل جائیداد اور اس زمین کی مالیت لگائی جائے گی اور آپ کے بھائی کو نانا کی کل جائیداد کی ایک تہائی مالیت کےبرابر اس زمین سے دے دیا جائے گا۔

3. وراثت کی صحیح تقسیم کے لیے نانا کے تمام وارثوں کا علم ہونا ضروری ہے، ایسے ہی یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ نانا اور اس کی بیٹی (آپ کی والدہ) میں سے کون پہلے فوت ہوا ہے ۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے