الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنا سارا مال یا مال کا کچھ حصہ کسی کو گفٹ کر دے، اگر درج ذیل شرطیں پائی جائیں:
اگر اس نے اس بیماری میں کسی کو کوئی چیز گفٹ کی ہے جس میں اس کی وفات ہو گئی ہے تو اس کا یہ تصرف صحیح نہیں ہو گا۔
ایسے ہی اگر اس کے گفٹ کرنے کا مقصد وارثوں کو نقصان پہنچانا تھا پھر بھی اس کا گفٹ کرنا جائز نہیں ہو گا، وہ مال وارثوں میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
1. جو زمین آپ کے نانا نے آپ کے بڑے بھائی کے نام رجسٹر کروائی تھی ، اگر نانا نے اپنی زندگی میں ہی آپ کے بھائی کو اس کا قبضہ دے دیا تھا ، وہ اس زمین کا مالک بن چکا تھا وہ اس میں جو کرنا چاہے کر سکتا تھا، تو یہ گفٹ تھا جس کے صحیح ہونے کے لیے مذکورہ بالا شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔
2. اگر نانا نے اپنی زندگی میں آپ کے بھائی کو قبضہ نہیں دیا تھا ، تو اس کا حکم وصیت کا ہوگا، جو ایک تہائی سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ نانا کی باقی جائیداد اور اس زمین کی مالیت لگائی جائے گی، اگر یہ زمین کل مال کا ایک تہائی یا ایک تہائی سے کم بنتی ہو تو یہ وصیت صحیح ہو گی ورنہ صرف ایک تہائی تک وصیت کو نافذ کیا جائے گا، یعنی نانا کی کل جائیداد اور اس زمین کی مالیت لگائی جائے گی اور آپ کے بھائی کو نانا کی کل جائیداد کی ایک تہائی مالیت کےبرابر اس زمین سے دے دیا جائے گا۔
3. وراثت کی صحیح تقسیم کے لیے نانا کے تمام وارثوں کا علم ہونا ضروری ہے، ایسے ہی یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ نانا اور اس کی بیٹی (آپ کی والدہ) میں سے کون پہلے فوت ہوا ہے ۔
والله أعلم بالصواب.