سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
سو د خور کی دعوت قبول کرنا
  • 6155
  • تاریخ اشاعت : 2025-09-06
  • مشاہدات : 162

سوال

اگر کسی شخص کے بارے میں علم ہو کے وہ سود کا کام کرتا ہے، تو کیا اُس کے گھر سے پانی پینا یا کچھ کھا لینا ٹھیک ہے ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں سود لینے سے منع کیا گیا ہے بلکہ سود لینے کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَﱠ. (البقرة: 278-279).

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ. (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

’’رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ،  سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں  پر لعنت فرمائى ہے ، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ‘‘۔

E اس لیے سود خور پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے فورا توبہ کرے،  جو كچھ ہو چكا اس پر ندامت کا اظہار کرے، اور پختہ عزم كرے  كہ آئندہ ایسے عظيم گناہ اور جرم كا ارتكاب نہيں كرے گے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ 

E سود سے حاصل ہونے والا مال اگر اس شخض کو دینا ممکن ہو جس سے وہ لیا گیا ہے تو اسے واپس کیا جائے گا، خود انسان  کے لیے اسے کھانا جائز ہے۔ 

E   توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ سود سے حاصل شدہ  دولت  سے ایسے افراد کی مدد کر دے  جو سود میں پھنسے ہوئے ہوں۔ انتہائی مجبور، لاچار فقراء ومساکین جن کا کوئی اور وسیلہ نہیں ہے ان کی بھی اس دولت سے معاونت کی جا سکتی ہے۔

رہی بات سود خور کے گھر سے کچھ کھانا یا پینا ، تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اگر اس کی ساری آمدنی ہی سودی کاروبار کی ہےتو اس کی دعوت قبول کرنے اور اس کے ہاں کھانے پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر بامر مجبوری اس کے گھر سے کھانا پینا پڑ جائے تو اس کی گنجائش ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے یہودیوں کا کھانا وغیرہ کھایا، حالانکہ یہود سودی کاروبار کیا کرتے تھے۔

سيدنا انس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔ (مسند احمد: 13860) (صحیح)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے