سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
زکاۃ کے مال سے محتاج اور فقیر طلبہ کے لیے دینی کتب خریدنا
  • 6153
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-09
  • مشاہدات : 340

سوال

دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اور حفظ مدارس میں حفظ کرنے والے طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد مستحق بچوں کی ہوتی ہے۔ ان طلبہ و طالبات کے لیے قرآن كريم سمجھنے کے لیے ایک کتاب معلم القرآن ہدیہ کرنے کا ارادہ ہے تاکہ یہ طلبہ و طالبات قران کریم کو سمجھ کر پڑھیں۔چونکہ یہ بچے کتا بیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لیے ہم انہیں اپنے مال زکاۃ میں سے معلم القران کتاب اور دیگر دینی علوم کی کتابیں بڑی تعداد میں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ امر مصارف زکاۃ میں داخل ہے اور ہم زکاۃ کے مال سے یہ کتابیں حاصل کر کے تقسیم کر سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زکاۃ کے مستحق  افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کے آٹھ  مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے لام تملیک کا ذکر کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کو زکاۃ کے مال کا مالک بنانا ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق اسے خرچ کرسکیں، یعنی زکاۃ کا مال ان افراد کے حوالے کر دیا جائے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق جیسے چاہیں خرچ کریں، کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔

ان مصارف میں ایک مصرف  فِي سَبِيلِ اللَّهِ  ہے۔  مفسریں نے اس لفظ کے دو معنی بیان کیے ہیں، ایک تو ہر نیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر مذکورہ بالا آیت میں پہلے ہو چکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جا سکتا ہے۔

اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیانِ اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بے حرمتی کی مصیبت بھی جمع ہو جائے گی۔  

1. بہت سارے علماء کرام  نے  فِي سَبِيلِ اللَّهِ  کے مصرف کے تحت فقیر اور محتاج طلبہ کے لیے دینی کتب کی خریداری مال زکاۃ سے کرنے کی اجازت دی ہے، کیونکہ دین کی نشر و اشاعت علم اور جہاد دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

يَاأَيُّهَا النبي جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (التحريم:9)

اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں منافقین کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ظاہری بات ہے منافقین کے ساتھ جہاد علم کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، اسلحہ وغیرہ سے تو ممکن نہیں ہے۔ اس لیے علم کی نشر واشاعت کرنا بھی جہاد  ہے ۔

1. مندرجہ بالا گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ محتاج اور فقیر طلبہ کے لیے زکاۃ کے مال سے ان  دینی کتب کی خریداری  کرنا جن کی انہیں اشد ضرورت ہو جائز ہے۔

2. یہ یادر رہے کہ مال زکاۃ پر زکاۃ دینے والے کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی ٹھونسے اور حسب منشا اس میں تصرف کرے، اس لیے بہترین حل یہ ہے کہ زکاۃ کا مال ادارے کے مدیر کو دے دیا جائے جو پوری طرح سے امین اور دیانت دار ہو، وہ مستحق بچوں کی ضرورت کے مطابق ان پر خرچ کرے۔

3. اس لیے آپ اپنی زکاۃ کی رقم ادارے کے مدیر کے حوالے کر دیں وہ مستحق طلبہ کی ضرورت کے مطابق ان پر خرچ کرے، البتہ اگر  ادارے والے خود کہیں کہ ہمیں یہ کتابیں چاہئیں تو پھر آپ یہ کتابیں انہیں لے کر دے دیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے