سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
شوہر نے بیوی کو کہا میں تمہارا طلاق کا شوق پورا کر دوں گا، کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو جائے گی؟
  • 6152
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-19
  • مشاہدات : 151

سوال

میرا اپنے شوہر سے جھگڑا ہو رہا تھا، اس دوران میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہتی مجھے طلاق دیں تو میرے شوہر نے مجھے کہا "جاؤ راستہ سامنے ہے، جاؤ"۔ کچھ دنوں بعد پھر ہماری آپس میں کسی بات پر ناراضگی تھی۔ میں نے اپنے شوہر سے صلح کرنے کیلئے بات چیت کی تو شوہر نے کہا میں نے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی تو میں نے کہا میں اس صورت حال میں نہیں رہتی تو شوہر نے کہا "نہیں رہتی تو جاؤ"، بعد میں شوہر نے کہا میری نیت یہ تھی کے اپنی ماں کے گھر جاؤ اور میں دوسری شادی کرلوں۔ پھر اسی رات بحث ومباحثہ کے دوران میرے شوہر نے مجھے کہا کہ میں نے خود کو آپ سے الگ کرلیا ہے، اپنی کسی بھی ضرورت کیلیے تمہارا محتاج نہیں ہوں ہر تعلق کیلئے تمہاری ضرورت نہیں ازدواجی تعلقات کیلئے بھی مراد تھی۔ میرا جو دل چاہے گا کروں گا تمہارا بھی جو جی چاہے کرو اور تمھیں میری ضرورت نہیں ہونی چاہیئے اور مستقبل میں تمہارا طلاق کا شوق پورا کر دوں گا، بعد میں پھر کہتے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ بھی کچھ مواقع پر مجھے میرے شوہر نے کہا ہے کہ تم میری طرف سے فارغ ہو۔ شرعی لحاظ سے میری رہنمائی فرمائیں

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور  اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔ 

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل  بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر خاوند اور بیوی کا آپس  میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو  اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ 

خاوند اوربیوی میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کا لحاظ کرنا چاہیے۔ دونوں کا رشتہ اعتماد اور محبت واحترام پر قائم ہونا چاہیے۔  چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق دینے کی بات کرنے سے خاوند اور بیوی میں باہمی محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اولاد کی  نفسیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  

جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:

1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو، جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔

2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا  کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔

آپ کے شوہر نے مختلف موقعوں پر جو جملے استعمال کیے ہیں، یعنی  "جاؤ راستہ سامنے ہے، جاؤ"،  "نہیں رہتی تو جاؤ" ،   طلا ق کے معنی میں واضح نہیں ہیں بلکہ کنایہ ہیں ۔ اس لیے آپ کے خاوند کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ خاوند نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ ان جملوں کو بولتے وقت اس کی  نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، اس لیے آپ کو طلاق واقع نہیں ہوئی۔

اسی طرح ایک موقع پر آپ کے شوہر نے آپ سے کہا :  میں نے خود کو آپ سے الگ کر لیا ہے، اپنی کسی بھی ضرورت کیلیے تمہارا محتاج نہیں ہوں ہر تعلق کیلئے تمہاری ضرورت نہیں،  ازدواجی تعلقات کیلئے بھی مراد تھی۔ میرا جو دل چاہے گا کروں گا، تمہارا بھی جو جی چاہے کرو اور تمھیں میری ضرورت نہیں ہونی چاہیئے اور مستقبل میں تمہارا طلاق کا شوق پورا کر دوں گا۔ ان جملوں میں خاوند نے طلاق نہیں دی،  بلکہ مستقبل میں طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، فوری طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی، جب وہ مستقبل میں طلاق دیں گے تو طلاق واقع ہو گی۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ اپنے معاملات کو سلجھانے کے لیے حکمت کے ساتھ  کوئی اور طریقہ اختیار کرے،  بار بار طلاق دینے کی دھمکیاں نہ دے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے