الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کو چاہیے کہ وہ شادی کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔
ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر خاوند اور بیوی کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔
خاوند اوربیوی میں سے ہر ایک کو ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کا لحاظ کرنا چاہیے۔ دونوں کا رشتہ اعتماد اور محبت واحترام پر قائم ہونا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق دینے کی بات کرنے سے خاوند اور بیوی میں باہمی محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اولاد کی نفسیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:
1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو، جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔
2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔
آپ کے شوہر نے مختلف موقعوں پر جو جملے استعمال کیے ہیں، یعنی "جاؤ راستہ سامنے ہے، جاؤ"، "نہیں رہتی تو جاؤ" ، طلا ق کے معنی میں واضح نہیں ہیں بلکہ کنایہ ہیں ۔ اس لیے آپ کے خاوند کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ خاوند نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ ان جملوں کو بولتے وقت اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، اس لیے آپ کو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اسی طرح ایک موقع پر آپ کے شوہر نے آپ سے کہا : میں نے خود کو آپ سے الگ کر لیا ہے، اپنی کسی بھی ضرورت کیلیے تمہارا محتاج نہیں ہوں ہر تعلق کیلئے تمہاری ضرورت نہیں، ازدواجی تعلقات کیلئے بھی مراد تھی۔ میرا جو دل چاہے گا کروں گا، تمہارا بھی جو جی چاہے کرو اور تمھیں میری ضرورت نہیں ہونی چاہیئے اور مستقبل میں تمہارا طلاق کا شوق پورا کر دوں گا۔ ان جملوں میں خاوند نے طلاق نہیں دی، بلکہ مستقبل میں طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، فوری طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی، جب وہ مستقبل میں طلاق دیں گے تو طلاق واقع ہو گی۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ اپنے معاملات کو سلجھانے کے لیے حکمت کے ساتھ کوئی اور طریقہ اختیار کرے، بار بار طلاق دینے کی دھمکیاں نہ دے۔
والله أعلم بالصواب.