الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اسلام نے مال کمانے کے اصول وضوابط متعین کیے ہیں جو کمائی ان اصول وضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کی جائے گی وہ حلال اور جائز ہوگی اور کمائی کا ہر وہ طریقہ جو اسلام کے بیان کردہ اصول وضوابط کے خلاف ہو گا حرام اور ناجائز ہو گا۔
اگر آپ نے بے حیائی، بے پردگی اور موسیقی وغیرہ پر مشتمل ویلاگ کر کے یا اسلامی تعلیمات کے خلاف ویڈیوز بنا کر یوٹیوب سے کمائی کی ہے تو یہ کمائی حرام ہے ۔
آپ پر اللہ تعالی کا خاص فضل اور کرم ہے کہ اس نے آپ کو سچی توبہ کرنے کی توفیق دی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَه. (سنن ابن ماجه، الزهد: 4250) (صحيح).
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسا اس کا کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔
حرام کام سے توبہ کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حرام کمائی سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس کمائی کو انتہائی مجبور مساکین وفقراء، جن کا کوئی بھی سہارا نہیں ہے، پر خرچ کر دیا جائے، اگر کوئی مقروض شخص اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا اس کی معاونت بھی اس مال سے کی جا سکتی ہے، سڑکیں، ہسپتال وغیرہ بھی بنائے جا سکتے ہیں، بے بس اور لاچار یتیموں اور بیواؤں پر بھی ایسا مال خرچ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن یاد رہے! کہ جب آپ یہ مال فقیروں، مسکینوں وغیرہ پر خرچ کریں گے تو صدقے کی نیت نہیں کریں گے؛ کیوں کہ اللہ تعالی حرام مال قبول نہیں کرتا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا. (صحيح مسلم، الزكاة: 1015).
اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے۔
لہذا آپ مال خرچ کرتے وقت یہ نیت کریں گے کہ آپ گناہ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مال کو سود سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔
آپ اس حرام مال سے اپنی ضرورت کے بقدر رکھ سکتے ہیں، اگر کوئی چھوٹے موٹے کاروبار میں انویسٹ کر کے آپ کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
طَرِيقُ التَّخَلُّصِ مِنْهُ، وَتَمَامُ التَّوْبَةِ بِالصَّدَقَةِ بِهِ، فَإِنْ كَانَ مُحْتَاجًا إِلَيْهِ فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ قَدْرَ حَاجَتِهِ، وَيَتَصَدَّقَ بِالْبَاقِي (زاد المعاد از ابن قیم، جلد 5، ص 691)
حرام مال سے چھٹکارا حاصل کرنے اور توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے خرچ کر دیا جائے، اگر اس شخص کو حرام مال کی ضرورت ہو تو اپنی ضرورت کے بقدر اس سے لے سکتا ہے، باقی خرچ کر دے گا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَلَا يَحِلُّ هَذَا الْمَالُ لِلْبَغِيِّ وَالْخَمَّارِ وَنَحْوِهِمَا؛ لَكِنْ يُصْرَفُ فِي مَصَالِحِ الْمُسْلِمِينَ. فَإِنْ تَابَتْ هَذِهِ الْبَغِيُّ وَهَذَا الْخَمَّارُ وَكَانُوا فُقَرَاءَ جَازَ أَنْ يُصْرَفَ إلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ مِقْدَارُ حَاجَتِهِمْ فَإِنْ كَانَ يَقْدِرُ يَتَّجِرُ أَوْ يَعْمَلُ صَنْعَةً كَالنَّسْجِ وَالْغَزْلِ أُعْطِيَ مَا يَكُونُ لَهُ رَأْسُ مَالٍ (مجموع الفتاوى از ابن تيميہ، جلد 29، ص 309)
یہ(حرام) مال بدکار عورت، شراب بنانے والے یا اس جیسے دوسرے لوگوں کے لیے حلال نہیں ہے، بلکہ اسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کر دیا جائے گا۔ البتہ اگر یہ بدکار عورت یا شراب بنانے والا توبہ کر لے اور محتاج بھی ہوں تو ان کی ضرورت کے مطابق اس مال میں سے انہیں دینا جائز ہے۔ اور اگر وہ تجارت کر سکتے ہوں یا کوئی ہنر جیسے کپڑا بننے یا سوت کاتنے وغیرہ کا کام کر سکتے ہوں تو انہیں اتنا مال دیا جائے جو ان کے لیے کاروبار کا سرمایہ بن سکے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 2-3)
اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
والله أعلم بالصواب.