الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﱠ (الحجرات: 13).
اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہنچانو، تے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہےجو تم میں سب سے زیادہ تقوی والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
مندرجہ بالاآیت سے یہ بات بخوبی عیاں ہوتی ہے کہ اسلام میں مقام و مرتبہ اور عزت کا سبب نسب، قوم ، قبیلہ نہیں ، بلکہ تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دين دار اور نيك عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّين تَرِبَتْ يَدَاكَ (صحیح البخاری، كتاب النكاح: 5090، صحيح مسلم: 1466)
عورت سے چار خصلتوں کے پیش نظر نکاح کیا جاتا ہے: مال، نسب، خوبصورتی اور دینداری۔ تمھارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں! تم دیندار عورت سے شادی کر کے کامیابی حاصل کرو۔
عورت کے اولیاء کو بھی حكم ديا گیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت عورت کی شادی نیک اور متقی شخص سے کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ (سنن ترمذی، أَبْوَابُ النِّكَاحِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: 1084) (صحیح)
جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کاپیغام دے جس کی دین داری اور اخلاق سے تمہیں اطمینان ہوتو اس سے شادی کردو۔ اگر ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےشادی کے لیے دیندار مرد اور عورت کو ترجیج دینے کا حکم دیا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی ذات پات کا لحاظ کیے بغیر شادیاں کی ہیں۔ اس لیے اگر نیک سیرت رشتہ آ جائے تو شادی کر دینی چاہیے۔
والله أعلم بالصواب.