سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا عمرہ کرنے والے شخص کا مدینہ منورہ جانا لازمی ہے؟
  • 6143
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-28
  • مشاہدات : 311

سوال

اگر کوئی شخص اپنے خاندان کے ساتھ عمرہ ادا کرنے آتا ہے اور دس دن مکہ مکرمہ میں قیام کے بعد اور ایک سے زائد عمرے ادا کرکے واپس پاکستان چلا جاتا ہے اور مدینہ منورہ نہیں جاتا تو کیا مدینہ منورہ نہ جانے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عمرہ میں درج ذيل چارکام سرانجام دیے جاتے ہیں:

1. احرام (حج يا عمرہ ميں داخل ہونے كی نيت كواحرام كہا جاتا ہے)

2. بيت اللہ كا طواف 

3. صفا اور مروہ كی سعی

4. سركے بال منڈانا يا چھوٹے كروانا

مذکورہ بالا عمرہ کے ارکان و واجبات ادا کردینے سے عمرہ مکمل ہوجاتا ہے۔ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد تندرست آدمی اطمینان کے ساتھ دو سے اڑھائی گھنٹے میں عمرہ مکمل کر لیتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی مکمل ہونے کے بعد آپ واپس اپنے گھر جا سکتے ہیں۔ دس دن یا اس سے زیادہ دن مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں ٹھہرنا آپ کی اپنی مرضی ہے۔

1.یاد رہے!  عمرہ کی ادائیگی کے لیے مدینہ منورہ جانا ضروری نہیں ہے۔ عمرہ کے تمام ارکان و واجبات مکہ مکرمہ میں ہی ادا ہوتے ہیں۔

چونکہ لوگ مختلف ملکوں سے کافی زیادہ رقم خرچ کرکے آتے ہیں اس لیے ان کی ذاتی خواہش ہوتی ہے کہ جتنا زیادہ عرصہ مقدس مقامات میں ٹھہرنے کا میسرآجائے بہترہے اور یہ اچھی خواہش ہے کہ انسان زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے مکہ ومدینہ میں ٹھہرے۔

سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى (صحيح البخاري، فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ مَكَّةَ وَالمَدِينَةِ: 1189، صحيح مسلم، الحج: 1397)

تین مساجد: مسجد حرام، مسجد نبوی اورمسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی طرف بھی (تقرب وعبادت کی نیت سے) رخت سفرنہ باندھا جائے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے