الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ایسا ریسٹورنٹ جس میں سور، شراب یا دیگر حرام چیزیں بیچی جاتی ہوں، آپ کی خدمات دو طرح کی ہو سکتی ہیں:
1. آپ سور، شراب یا دیگر حرام چیزیں اپنے کسٹمرز کو پیش کرتے ہوں، تو یہ عمل بلاشبہ حرام اور ناجائز ہے کیونکہ یہ حرام کام میں تعاون ہے جو شرعا ًنا جائز ہے۔ اس کام پر جو آپ کو تنخواہ ملے گی وہ بھی حرام ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة: 2)
اور نیکی اور تقوی پر ایک دوسرے کی مدد کرواور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔
2. ریسٹورنٹ میں آپ کی خدمات صرف انہی کاموں تک محدود ہوں جو اسلام میں جائز ہیں، اس صورت میں بھی افضل یہی ہے کہ انسان وہاں کام نہ کرے کیونکہ خدشہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ حرام کاموں میں شامل ہو جائے گا۔ ویسے بھی جب ہر وقت اس کے سامنے حرام مشروبات اور کھانے پیش کیے جاتے رہیں گے تو اس میں نرمی پیدا ہوجائے گی کیونکہ جب کوئی برائی باربار انسان کے سامنے ہو رہی ہو تو وقت کے ساتھ اس کے دل میں اس کے برا ہونے کا ٰاحساس ختم ہو جاتا ہے۔
سيدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
الحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ: كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، أَلاَ وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلاَ إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ، أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ (صحیح البخاری، الإيمان: 52، صحیح مسلم، المساقاۃ والمزارعة: 1599)
حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، چنانچہ جو شخص ان مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہو گیا اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو شاہی چراگاہ کے آس پاس (اپنے جانوروں کو) چرائے، قریب ہے کہ چراگاہ کے اندر اس کا جانور گھس جائے۔ آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ خبردار! اللہ کی چراگاہ اس کی زمین میں حرام کردہ چیزیں ہیں۔ سن لو! بدن میں ایک ٹکڑا (گوشت کا) ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو سارا بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا بدن خراب ہو جاتا ہے۔ آگاہ رہو! وہ ٹکڑا دل ہے۔
والله أعلم بالصواب.