الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
11، 12 اور 13 ذو الحجہ کو زوال سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال کے بعد رمی کی اور فرمایا:
لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ (صحیح مسلم، الحج: 1297)
تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ) حج نہ کر سکوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی کو زوال تک مؤخر کرتے تھے، جب سخت گرمی ہوتی ہے حالانکہ صبح کے وقت موسم بہتر ہوتا ہے، یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ زوال سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر کی نماز ادا کرنے سے پہلے رمی کرتے تھے، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ زوال سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر زوال سے پہلے رمی کرنا جائز ہوتا، تو وہی افضل ہوتا، تاکہ آپ ﷺ ظہر کی نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کر سکیں، کیونکہ نماز کو اول وقت میں ادا کرنا افضل ہے۔
رات کے وقت رمی کرنا صحیح ہے، لیکن واضح رہے کہ رات کے وقت کی گئی رمی صرف اسی دن کے لیے صحیح ہوتی ہے جس دن کا سورج غروب ہو چکا ہو، اگلے دن کی رمی اس سے ادا نہیں ہوتی۔ یعنی جو شخص 11 ذو الحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے رمی نہ کر سکے، وہ سورج غروب ہونے کے بعد رمی کر سکتا ہے۔ اور جو شخص 12 ذو الحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے رمی نہ کر سکے، وہ سورج غروب ہونے کے بعد یعنی تیرہویں کی رات رمی کر سکتا ہے۔اور جو شخص 13 ذو الحجہ کو غروب آفتاب تک رمی نہ کر سکے تو اس سے رمی کا وقت نکل چکا ہوتا ہے، اس پر دم (قربانی) لازم ہو گا، کیونکہ تیرہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پورے ایامِ رمی کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کسی نے دریافت کیا:
رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ فَقَالَ لَا حَرَج َ)صحيح البخاري، الحج: 1723)
میں نے غروب آفتاب کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں۔
والله أعلم بالصواب