الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
طواف وداع حج کے واجبات میں سے ہے، اگر انسان طواف وداع کیے بغیر مکہ سے نکل جائے تو اسے دم دینا لازمی ہو گا جو مکہ مکرمہ میں ذبح کیا جائے گا اور وہاں کے فقراء و مساکین میں تقسیم کیا جائے گا، انسان کے لیے خود اس کا گوشت کھانا جائزنہیں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ (صحيح البخاري، الحج: 1755)
لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔
لہذا اگرانسان طواف دواع کیے بغیر میقات سے باہر چلا جائے تواس پر دم لازم آئے گا۔
ہاں! اگر حج کرنے والی عورت ہے اور اس نے حج کے تمام مناسک ادا کر لیے ہیں، طواف افاضہ بھی کر لیا ہے، لیکن مکہ مکرمہ چھوڑنے سے پہلے اسے حیض آ گیا تو اس پر طواف وداع کرنا واجب نہیں ہو گا، وہ طواف وداع کیے بغیر ہی مکہ سے جاسکتی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْحَائِضِ (صحيح البخاري، الحج: 1755، صحيح مسلم، الحج: 1328)
لوگوں کو حکم دیا گیا کہ سب سے آخر میں ان کا عمل بیت اللہ کا طواف ہو مگر ایام ماہواری والی عورت سے تخفیف کی گئی ہے۔
والله أعلم بالصواب.