سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟
  • 6134
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-23
  • مشاہدات : 145

سوال

کیا نشہ کی حالت میں بیوی کو طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر انسان نے نشہ آور چیز اپنی مرضی سے نہ کھائی ہو بلکہ اسے دھوکے سے یا مجبور کر کے کھلا دی گئی ہو اور اسے نشہ ہو جائے، اسی حالت میں وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے  تو اس کی طلاق واقع نہیں ہو گی۔

اگر اس نے اپنی مرضی سے نشہ کیا ہو اور وہ نشے کی حالت میں ہی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس صورت میں بھی  درج ذیل دلائل کی بنا پر صحیح قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لَيْسَ لِمَجْنُونٍ وَلاَ لِسَكْرَانَ طَلاَقٌ ( پاگل اور نشے والے  کی طلاق نہیں ہو گی)

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: طَلاَقُ السَّكْرَانِ وَالمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ بِجَائِزٍ (نشے والے اور زبردستی  کی طلاق نہیں ہو گی)

(دیکھیں: صحیح بخاری، بَابُ الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ وَالكُرْهِ، وَالسَّكْرَانِ وَالمَجْنُونِ وَأَمْرِهِمَا، وَالغَلَطِ وَالنِّسْيَانِ فِي الطَّلاَقِ وَالشِّرْكِ وَغَيْرِهِ)

1. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی  منقول نہیں کہ اس نے ان دونوں صحابہ کی مخالفت  کی ہو۔

نشے کی حالت میں انسان سے جو بھی کام سرزد ہوتے ہیں ان میں اس کا ارادہ شامل نہیں ہوتا ، اس نے طلاق بھی بغیر ارادے کے دی ہے اس لیے  واقع نہیں ہو گی۔

نشے کی حالت میں انسان سوئے ہوئے اور پاگل شخص کی طرح ہوتا ہے، حب پاگل یا سوئے ہوئے شخص کی طلاق واقع نہیں ہوتی تو نشے والے کی بھی نہیں ہو گی۔

نشے والے شخص کی حالت نشہ میں عقل نہیں ہوتی اس لیے اس کے  ان اقوال کا اعتبار نہیں کیا جائے گاجس سے کسی دوسرے کا نقصان ہو۔  طلاق کے واقع کرنے سے بیوی کا نقصان ہو گا،  حالانکہ وہ بالکل بے قصور ہے، کسی دوسرے کے جرم کی سزا اسے کیوں دی جائے؟!

نشہ والے شخص کے حالت نشہ میں کیے گئے کاروبار ، گفٹ  وغیرہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، البتہ اگر وہ قتل کر دے یا زنا کرے یا چوری وغیرہ کرے تو اس کا مؤاخذہ ہو گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے