الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں، تو یہ حکم ابلیس کو بھی دیا گیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (11) قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (الأعراف11-12)
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں سے نہ ہوا۔فرمایا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا، جب میں نے تجھے حکم دیا؟ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
1. جب ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا، تو پھر آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم میں وہ کیوں شامل تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابلیس ظاہری طور پر اپنے اعمال میں فرشتوں سے مشابہت رکھتا تھا۔ اسی لیے نافرمانی کرنے پر مذمت کا مستحق ٹھہرا۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد نمبر 1، ص 137)
والله أعلم بالصواب.