سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
زخرف القول اور قول الزور کا مفہوم
  • 6108
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-14
  • مشاہدات : 13

سوال

زخرف القول اور قول الزور میں کیا فرق ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ دونوں لفظ قرآن مجید میں استعمال ہوئے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (الأنعام: 112)

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں۔

وحی کا معنی خفیہ طریقے سے اطلاع دینا ہے، یعنی وہ انسان اور جن جو شیطان ہیں، وہ اپنوں میں سے سیدھے سادے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے چوری چھپے طرح طرح کے مزین اور ملمع کیے ہوئے حیلے اور مکر سکھاتے ہیں۔

اور فرمایا:

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج: 30)

پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔

"قَوْلَ الزُّوْرِ"  کا لفظ عام ہے، اس لیے اس میں جھوٹی شہادت دینا، کسی پر بہتان لگانا، غرض کوئی بھی جھوٹ بولنا شامل ہے اور سب سے اجتناب کا حکم ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: تفسیر القرآن الکریم از عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے