سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
یاک اور لاما کی قربانی کرنا
  • 6102
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-19
  • مشاہدات : 432

سوال

کیا یاک اور لاما جیسے جانوروں کی قربانی جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی صرف بهيمة الأنعام  سے کرنا جائز ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

 وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الأَنْعَامِ (الحج: 34)

اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔

 

بهيمة الأنعام سے مراد اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

 لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ (صحيح مسلم، الأضاحي: 1963)

صرف مسنہ (دودانتا) جانور کی قربانی کرو، ہاں! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُسِنَّةً  جانور ذبح کرنے کا حکم دیا ہے  اور اہل علم کے ہاں مُسِنَّةً اونٹ، گائے اور بھیڑ، بكرى كى جنس سے دو دانتے كو كہتے ہيں۔

 

قربانی کرنا عبادت ہے، یہ انہیں جانوروں سے کی  جائے گی جن کی قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہیں کی۔

لاما اونٹ کی طرح کا وحشی جانور ہے، یاک گائے یا بھینس کی نسل کا جانور ہے، یہ بھی جنگلی اور وحشی جانور ہے ۔ ان دونوں کا گوشت تو حلال ہے لیکن قربانی جائز نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے