سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عشرہ ذو الحجہ میں کیے جانے والے اعمال
  • 6100
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-10
  • مشاہدات : 90

سوال

عشرہ ذو الحجہ کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے کون سے اعمال کرنے چاہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ قَالُوا وَلَا الْجِهَادُ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ (صحيح البخاري، العيدين: 969)
اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ اور محبوب ہوتا ہے۔ 
یعنی ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو کوئی شخص اپنی جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو۔

ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں مسلمان کومندرجہ ذيل کام کرنے چاہیں :

1. روزے رکھنا۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان دنوں میں کثرت کے ساتھ روزے رکھے، خاص طور پر 9 ذوالحجہ کا روزہ، کیونکہ وہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، الصيام: 1162)
2. تکبیرات کہنا۔
مساجد، راستوں، گھروں ہر جگہ جہاں اللہ تعالی کا ذکر کرنا جائز ہے وہاں اونچی آواز سے تکبیریں اور لاالہ الااللہ، الحمدللہ کہنا چاہیے۔ (الحج: 28)
3. حج وعمرہ کی ادائيگي۔
ان دس دنوں میں سب سے افضل کام بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنا ہے، ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان کے درمیان کیے گئے ہوں اور حج مبرور کی جزا تو جنت ہے۔ (صحیح البخاري، أبواب العمرة: 1773)
4- قربانی کرنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال قربانی کرتے تھے، حتی کہ سفر میں بھی آپ نے قربانی کی ہے۔ (صحیح مسلم، الأضاحي: 1975)
5- توبہ کرنا۔
توبہ انسان کی کامیابی اور فلاح کی ضمانت ہے۔ (النور: 31)
6- دیگر نیک اعمال کرنا، جیسے نفلی نماز کا اہتمام،  قرآن کریم کی تلاوت، ذکر واذکار، دعا، صدقہ وخیرات، والدین سے حسن سلوک، نیکی کاحکم دینا اور برائي سے روکنا، اسی طرح دیگر اعمال خیر کرنا۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے