الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قربانی صاحبِ حیثیت شخص پر ضروری ہے، یعنی اگر انسان کے پاس اپنے اخراجات اور ذاتی ضروریات سے زائد مال ہو تو اسے قربانی کرنی چاہیے۔ مثلا: اس کا ماہانہ خرچہ 50 ہزار روپے ہے اور اس کے پاس 50 ہزار سے زائد اتنی رقم ہے جس سے وہ قربانی خرید سکتا ہے تو اسے قربانی کرنی چاہیے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا. (سنن ابن ماجه، الأضاحي: 3123) (صحيح).
جس کے پاس استطاعت ہو پھر وہ قربانی نہ کرے، وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔
اگر جوائنٹ فیملی سسٹم ہے تو گھر کا سربراہ قربانی کرے گا، اور وہ تمام گھر والوں کی طرف سے ہو جائے گی۔
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عید قربان پر قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمايا:
كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى. (سنن الترمذی، الأضاحي: 1505) (صحیح).
ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا، وہ خود بھی اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتےتھے، حتی کہ لوگ اس عمل پر فخر کرنے لگے اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا جو آپ کو نظر آرہا ہے۔
اگر خاتون کے گھر کا سربراہ صاحب حثییت ہے تو وہ قربانی کرے گا اور گھر کے تمام افراد کی طرف سے قربانی ہو جائے گی۔ اگر خاتون اکیلی رہتی ہے یا اپنی اولاد کے ساتھ رہائش پذیر ہے اور اس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال ہے جس سے وہ قربانی خرید سکے تو اسے قربانی کرنی چاہیے۔
والله أعلم بالصواب.