سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نماز تراویح کی جماعت میں فرض نماز پڑھنا
  • 6090
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-12
  • مشاہدات : 130

سوال

امام جب تراویح پڑھا رہا تو ایک نمازی جس نے فرض نماز پڑھنی ہو تو کیا جماعت میں شامل ہو جائے یا علیحدہ فرض پڑھے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام اور مقتدی کی نیت میں اختلاف ہوسکتا ہے، اگر امام فرض نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا میں نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے، ایسے ہی اگر امام کی نماز نفل ہو تو اس کی اقتدا میں فرض نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ’’تمھارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟‘‘ میں نے عرض کیا تو آپﷺ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمھیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمھارے لیےنفل ہو جائے گی۔  (صحیح مسلم،  المساجد ومواضع الصلاة: 648)

سيدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔ (صحیح مسلم، الصلاة: 465)

 

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھتے تھے، پھر یہی نمازاپنی قوم میں آکر پڑھاتے تھے، معاذ رضی اللہ عنہ کی یہ نماز نفل ہوتی تھی اور ان کی قوم کی فرض۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امام نماز تراویح پڑھا رہا ہو جو کہ نفلی نماز ہے،  تو اس کی اقتدا میں فرض نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ 

اس لیے اگر نمازی نے فرض نماز پڑھنی ہو تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور بقیہ نماز امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہو کر مکمل کر لے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے