سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
وراثت کی تقسیم نہ کرنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
  • 6081
  • تاریخ اشاعت : 2025-05-22
  • مشاہدات : 147

سوال

وراثت کی تقسیم نہ کرنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا قران وسنت پر عمل نہ کرنے والا مسلمان کہلائے گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کے مرنے کے بعد اس کامال اس کے وارثوں کا ہو جاتا ہے۔ میت کے ترکہ کو وارثوں سے چھپانا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ بلاوجہ وراثت کی تقسیم کو مؤخر کیا جائے،  بلکہ جتنی جلدی ہو سکے تمام وارثوں کو ان کا حصہ شریعت کے بیان کردہ حصوں کے مطابق دینا ضروری ہے۔

البتہ اگر تمام ورثاء سارے ترکہ یا بعض ترکہ کی تقسیم کو مؤخر کرنے پر راضی ہوں تو تاخیر کی جا سکتی ہے۔

ورثاء کے مطالبے کے بعد  ترکہ کو تقسیم  کرنا واجب ہے۔  کسی کے مال پر نا جائز قبضہ کرنا ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ تمام ورثاء کا مقررہ حصہ ان کے حوالے کرے،  کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ تعالی کی پکڑ میں آ جائے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر  رضی  اللہ عنہما بیان کرتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحيح البخاري، المظالم والغصب: 2447، صحيح مسلم،  البر والصلة والآداب: 2579)

ظلم قیامت کے دن کئی طرح کی تاریکیاں ثابت ہوگا۔

سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا، طَوَّقَهُ اللهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ (صحيح مسلم، المساقاة والمزارعة: 1610)

جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں سے اس کا طوق (بنا کر) پہنائے گا۔

 

مسلمان کو کافر کہنا:

کسی مسلمان کو کافر کہنا بہت حساس اور اہم معاملہ ہے، اس بارے میں اتنہائی احتیاط کرنی  چاہیے۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے اگرچہ وہ گناہ گار اور فاسق وفاجر ہی کیوں نہ ہو۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ : يَا كَافِرُ. فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا(صحيح البخاري، الأدب: 6103).

جب آدمی اپنے بھائی کو کافر کہہ کے پکارتا ہے تو دونوں میں سے (کہنے والا یا جس کو کہا گیا ہے) ایک کافر ہو جاتا ہے۔

اور سیدنا ثابت بن الضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ، فَهُوَ كَقَتْلِهِ (صحیح البخاری، الأدب: 6047).

جس شخص نے مؤمن آدمی پر کفر کا الزام لگایا، یہ اس کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔

لہذا کسی کلمہ گو مسلمان کو بغیر دلیل کے کافر کہنا حرام ہے۔ البتہ اگر کوئی مسلمان کلمہ پڑھنے کے باوجود کسی کفریہ کام کا ارتکاب کرتا ہے تو پھر علماء شروط  و نواقض کا خیال رکھتے ہوئے اسے کافر قرار دے سکتے ہیں - لیکن عام آدمی کے پاس اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے کافر قرار دے دے۔

والله أعلم بالصواب.

 

تبصرے