الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان اولاد کو اپنی زندگی میں جو مال دیتا ہے وہ عطیہ اور گفٹ ہوتا ہے ۔ گفٹ دے کر واپس لینا جائز نہیں ہے، لیکن باپ اپنی اولاد کو گفٹ دے کر واپس لے سکتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
العَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ (صحیح البخاري وفضلها والتحريض عليها: 2589)، صحيح مسلم، الهبات: 1622)
ہبہ کرکے واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اسے چاٹ جاتاہے۔
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ (سنن أبي داود، الإجارة: 3525، سنن ترمذي، أبواب الولاء والهبة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 2132) (صحيح)
کسی آدمی کو حلال نہیں کہ کوئی عطیہ دے یا ہدیہ اور پھر اسے واپس لوٹا لے۔ سوائے باپ کے جو وہ اپنے بیٹے کو دے (تو واپس لے سکتا ہے۔) اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کتے کی سی ہے جو کھاتا ہے، جب پیٹ پھر جائے تو قے کر دیتا ہے اور پھر دوبارہ اسی کو کھانے لگ جاتا ہے۔
والدنے اپنی جو زمین اولاد کے نام کروائی ہے وہ اس کی طرف سے اولاد كو گفٹ ہے ، وه اسے واپس لے کر دوبارہ صرف اپنے نام کروا سکتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.