الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قرآن مجید کی سورتوں کے نام پر بچوں کے نام رکھنا درست عمل نہیں ہے۔ اس لیے یسین ، طہ ، حم وغیرہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمِمَّا يمْنَع مِنْهُ التَّسْمِيَة بأسماء الْقُرْآن وسوره مثل طه وَيس وحم وَقد نَص مَالك على كَرَاهَة التَّسْمِيَة ب يس ذكره السهلي وَأما مَا يذكرهُ الْعَوام أَن يس وطه من أَسمَاء النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَغير صَحِيح لَيْسَ ذَلِك فِي حَدِيث صَحِيح وَلَا حسن وَلَا مُرْسل وَلَا أثر عَن صَاحب وَإِنَّمَا هَذِه الْحُرُوف مثل الم وحم والر وَنَحْوهَا.
قرآن کے نام اور اس کی سورتوں کے نام پر (بچوں) کے نام رکھنے سے منع کیا جائے گا جیسے یسین، طہ اور حم نام رکھنا ۔ امام سہلی نے ذکر کیا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ یسین نام رکھنا مکروہ قرار دیا ہے۔ جو بات لوگوں کے ہاں مشہور ہے کہ یسین اور طہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں درست نہیں ہے۔ اس بارے میں کوئی صحیح، حسن ، مرسل حدیث حتی کہ کسی صحابی کا قول بھی ثابت نہیں ہے۔ یہ حروف (یسین ، طہ) الم ، حم اور الر وغیرہ کی طرف محض حروف ہی ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نام نہیں ہیں۔ (تحفة المودود: ص127)
والله أعلم بالصواب.