سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر تم نے اپنے بیٹے کو معاف کیا تو تمہیں طلاق
  • 6075
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-04
  • مشاہدات : 114

سوال

میر ا اور میرے بیٹے کا جھگڑا ہوا۔ میری حمایت میں میرا چھوٹا بیٹا اور میرے شوہر بولنے لگے۔ پھرمیرے بیٹے نے اپنے بھائی اور والد سے معافی مانگی۔ وہ میری طرف آنے لگا تو میرے شوہر نے کہا اگر تم نے بھی اسکو معاف کیا تو میری طرف سے تم کو تین طلاق۔ میں نے اپنے بیٹے کو معاف نہیں کیا۔ یہ بات اس وقت کے لئے تھی۔ کیا اب میں اپنے بیٹے کو معاف کر سکتی ہوں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں مذکور صورت حال میں آپ کو اپنے شوہر سے پوچھنا ہو گا کہ اگر انہوں نے یہ الفاظ ’’ اگر تم نے بھی اسکو معاف کیا تو میری طرف سے تم کو تین طلاق‘‘، اس نیت سے کہے تھے کہ اگر تم اسے ابھی معاف کرو گی تم تمہیں طلاق ، بعد میں معاف کرنا چاہو تو کر سکتی ہو، اس صورت  میں اب معاف کرنے سے طلاق نہیں ہو گی۔

اگر انہوں نے مذکورہ الفاظ اس نیت سے کہے تھے کہ جب بھی اس کو معاف کرو گی تم تمہیں طلاق ، تو اس صورت میں جب بھی آپ معاف کریں گی ایک طلاق واقع ہو جائے گی، کیونکہ اگر ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے دی جائیں تو ایک طلاق ہی واقع ہوتی ہے۔

 

اگر آپ کے شوہر اس بات سے رجوع کر لیں، یعنی وہ کہہ دیں کہ میں نے آپ کو کہا تھا کہ اگر تم نے اسے معاف کیا تم تمہیں طلاق، اب تم اسے معاف کر سکتی ہو، یعنی میں نے جو طلاق کو معاف کرنے کے ساتھ معلق کیا  تھا میں اسے ختم کرتا ہوں ، پھر آپ معاف کر دیں گی تو طلاق  واقع نہیں ہو گی۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے