الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر خاوند اور بیوی کا طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو خاوند کی بات کا اعتبار ہو گا۔ ہاں اگر عورت اپنے دعوی پر گواہ پیش کر دے تو پھر اس کی بات معتبرہوگی۔
سوال میں مذکور صورت حال میں خاوند کہہ رہا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور بیوی کا دعوی ہے کہ اسے شوہر نے طلاق دی ہے، لیکن بیوی کے پاس گواہ پورے نہیں ہیں کیونکہ بیوی کے دعوی کو ثابت کرنےکے لیے کم ازکم دو مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونا ضروری ہے ۔
مذکورہ صورت حال میں گواہ پورے نہیں ہیں اس لیے بیوی کو طلاق نہیں ہوئی اور وہ اپنے خاوند کے نکاح میں ہی ہے۔
والله أعلم بالصواب.