سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر خاوند اور بیوی کا طلاق کے معاملے میں اختلاف ہو جائے تو کس کی بات کا اعتبار ہے؟
  • 6068
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-02
  • مشاہدات : 130

سوال

میں نے اپنی بیوی کو غصے میں کہا کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا تم اپنے گھر جاؤ ۔ اس وقت میری امی، پھوپھو، دادی، بہن، سسر اور ساس پاس تھے۔ اب میں کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نہیں دی اور میرے پاس چار گواہ (میری امی، پھوپھو، دادی، اور بہن) ہیں، لیکن میری بیوی کہتی ہے کے طلاق دی ہے اور اس کے پاس اس کی ماں اور باپ گواہ ہیں۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر خاوند اور بیوی کا طلاق کے واقع ہونے کے بارے میں اختلاف ہو جائے تو خاوند کی بات کا اعتبار ہو گا۔ ہاں اگر عورت اپنے دعوی پر گواہ پیش کر دے تو پھر اس کی بات معتبرہوگی۔

سوال میں مذکور صورت حال میں خاوند کہہ رہا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور بیوی کا دعوی ہے کہ اسے شوہر نے طلاق دی ہے، لیکن بیوی کے پاس گواہ  پورے نہیں ہیں کیونکہ بیوی کے دعوی کو ثابت کرنےکے لیے کم ازکم دو مرد گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونا ضروری ہے ۔ 

 

مذکورہ صورت حال میں گواہ پورے نہیں ہیں اس لیے بیوی کو طلاق نہیں ہوئی اور وہ اپنے خاوند کے نکاح میں ہی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے