سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی کرنا
  • 6062
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-24
  • مشاہدات : 122

سوال

کیا ہم اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی کر سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی عبادت کے کرنے کے لیے ثبوت کا ہونا ضروری ہے ۔ 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی جاتی ہے، جناب حنش بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی  رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا:

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ (سنن أبي داود، الضحايا: 2790، سنن ترمذي، أبواب الأضاحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1495) (ضعيف)

 

رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ان کی طرف سے قربانی کیا کروں۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کیا کرتا ہوں۔

اس حدیث كی سند  میں تین راویوں کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، جن کے نام درج ذیل ہیں:

1. شريك بن عبد الله نخعی کوفی (اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا)

2. ابوالحسناء (یہ مجہول راوی ہے)

3. حنش بن معتمر (اس كو كثرت کے ساتھ وہم ہوتے ہیں)

 

امام محمد عبد الرحمن مباركپوری ، امام البانی، عبد المحسن العباد اور ديگر محدثین نے اس حديث كو مذكوره بالا راويوں کے ضعف کی بنا پر  ضعیف قرار دیا ہے ۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں:تحفۃ الاحوذیی : جلد 5، ص 65،  ضعيف ابي داود: جلد 2، ص 371، شرح سنن ابی داود للعباد: جلد9، ص 329)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے