سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ملازمت کی وجہ سے نماز وقت پر ادا نہیں کر سکتا، میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟
  • 6054
  • تاریخ اشاعت : 2025-05-05
  • مشاہدات : 459

سوال

میں نمازوں کی پابندی کی بھرپور کوشش کرتا ہوں، لیکن میری ملازمت کی نوعیت ایسی ہے کہ اکثر اوقات فرض نمازیں وقت پر ادا نہیں ہو پاتیں اور قضا کرنا پڑتی ہیں۔ میرے دل میں اس بات کا شدید احساس اور خلش رہتی ہے کہ نماز قضا ہونے سے میں فرض کی اصل روح کو ادا نہیں کر پا رہا۔ میں اس کشمکش میں ہوں کہ آیا مجھے ایسی ملازمت چھوڑ دینی چاہیے جو میری فرض نمازوں کی بروقت ادائیگی میں رکاوٹ بن رہی ہے، یا شریعت اس معاملے میں کوئی رخصت دیتی ہے؟ براہ کرم اس مسئلے میں شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں ۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الله تعالی نے تمام نمازوں کو اپنے مقررہ وقت پر فرض کیا ہے، کسی نماز کو اس کے وقت سے بغیر کسی شرعی عذر کے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)

بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔

اور فرمایا:

فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: 4۔5)

پس ان نمازیوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔ وہ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً (صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ: 534)

یقیناً آئندہ تمہارے ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر یں گے اور ان کے اوقات کو مرنے والوں کی آخری جھلملاہٹ کی طرح تنگ کر دیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے یہ (کام شروع) کر لیا ہے تو تم (ہر) نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا۔

مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ کہ نماز کو اس کے  وقت سے مؤخر کرنا حرام ہے۔  

ارشاد باری تعالی ہے:

رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْماً تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالأَبْصَارُ * لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ )النور:37-38)

وہ بڑی شان والے مرد جنھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ کوئی تجارت غافل کرتی ہے اور نہ کوئی خرید و فروخت، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔ تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔

آپ كو چاہيے كہ اپنی ملازمت کے اوقات کار اس طرح ترتیب دیں کہ نمازوں کی بروقت ادائیگی ممکن ہوسکے۔ اس سلسلے ميں  ذمے داران سے بات چیت کریں اور مناسب حل تلاش كريں۔ اگر آپ کو اس مقصد کے لیے اپنی ڈیوٹی کے وقت کو بڑھانا بھی پڑے تو بڑھا لیں، اللہ تعالی آپ کو نیک مقصد کی خاطر اس مشقت پر بھی اجرعطا فرمائے گا، بلكہ ان شاء اللہ يہ مشقت لذت ميں بدل جائيگى، كيونكہ آپ نے يہ مشقت اللہ تعالى كى راہ اور اس كى رضا مندى كے حصول كے ليے اٹھائى ہے۔

آپ كو چاہيے كہ اس مسئلے کو حل كرنے کے لیے سنجيدگى  کا مظاہرہ کریں۔  صرف دس سے پندرہ  منٹ میں آپ آسانی کے ساتھ وضو کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں۔  آپ ذمے داران کے ساتھ طے كرليں كہ ان دس منٹوں كے بدلے آپ اضافی ڈيوٹى دیں گے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ دس منٹ کی اجازت مانگیں اور آپ کو اجازت نہ ملے، کیونکہ  اگر آپ بيت الخلاء جانا چاہيں تو وہ آپ كو منع نہيں كرينگے حالانكہ اس ميں دس منٹ يا اس سے بھى زيادہ وقت لگ  سكتا ہے۔

اگر کوئی حل کارگر نہ ہو توآپ كوئى اور ملازمت تلاش کر لیں، تاکہ آپ اللہ تعالی کی عبادت مقررہ وقت پر کرسکیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (الطلاق:2-3)

اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔ اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے