الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کے قول اور عمل میں مطابقت ہونی چاہیے جب انسان خطبہ جمعہ میں دوسروں کو وعظ ونصیحت کرتا ہے تو اس کا اپنا کردار بھی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک عام آدمی کا یہ رویہ قابل مذمت ہے کہ وہ نماز باجماعت ادا نہ کرے، تو جو خود اللہ تعالی کے دین کی تبلیغ کرنے والا ہو اس کا نماز باجماعت ادا نہ کرنا زیادہ قابل مذمت ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرة:44)
کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
1. اگر خطیب بغیر کسی شرعی عذر کے باجماعت نماز ادا نہیں کرتا تو اسے اچھے انداز سے نصیحت کرنی چاہیے۔ اسے اصلاح کا موقع دینا چاہیے، اس دوران اس کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کی جائے گی۔ اگر وہ باربار نصیحت کرنے کے باوجود اپنا رویہ تبدیل نہ کرے تو کسی نیک صفت عالم آدمی کو خطیب رکھ لینا چاہیے۔
والله أعلم بالصواب.