الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:
1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔
2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔
1. آپ نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ’’ نکل جا، تو چلی جا، مت آنا میرے پاس ‘‘ کنایہ ہیں۔ اگر ان ا لفاظ کو بولتے وقت آپ کی نیت طلاق دینے کی تھی تو آپ کی بیوی کو ایک طلاق ہو چکی ہے، اگر طلاق دینے کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
والله أعلم بالصواب.