سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بے نمازی کے گھر کھانا وغیرہ کھانا
  • 6035
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-25
  • مشاہدات : 121

سوال

کیا بے نمازی کے گھر کھانا وغیرہ کھانا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بے نمازی کے گھر کھانا وغیرہ کھانا جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے ہاں بھی کھانا کھا لیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت کی دعوت قبول کی ۔

سيدنا انس بن مالک  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا فَقِيلَ: أَلاَ نَقْتُلُهَا، قَالَ: «لاَ»، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (صحیح البخاري، الهبة وفضلها والتحريض عليها: 2617)

ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کے پاس بکری کا گوشت لائی جو زہر آلود تھا۔ آپ نے اس گوشت سے کچھ کھایا، پھر اس یہودیہ کو پکڑ کرلایا گیا تو لوگوں نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ نے فرمایا: ’’نہیں، قتل نہ کرو۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زہر کا اثر رسول اللہ ﷺ کے تالو میں دیکھتا رہا ہوں۔

لیکن بے نماز کو نصیحت کرنا ضروری ہے کہ وہ نماز کی پابندی کرے كيونكہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا: 

((إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاة)). (صحیح مسلم، الإيمان: 82).

یقینا آدمی اور شرک، کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔

عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ  فرماتے ہیں : 

((كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ)). (سنن ترمذي، الإيمان: 2622) (صحيح).

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نماز کے علاوہ کسی عمل کے نہ کرنے پر کفر کا فتوی نہیں لگاتے تھے۔

اگر وہ بار بار نصیحت کرنے کے باوجود بھی نماز کی پابندی نہیں کرتا اور آپ کے قطع تعلقی کرنے سے وہ نماز پڑھنے لگ جائے گا تو پھر آپ اس سے قطع تعلقی کریں اور اس کی دعوت قبول نہ کریں، شاید اللہ تعالی اس کو ہدایت دے دے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے