الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
شریعت مطہرہ کی روشنی میں دم کرنا اور کروانا مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔
1. دم شرکیہ الفاظ پر مشتمل نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی کلام، اس کے اسمائے گرامی اور صفات عالیہ سے ہو۔
2. بامعنی عربی زبان میں ہو، جادو، ٹونے اور ناجائز عبارات پر مشتمل نہ ہو ۔
3. نجس حالات، یعنی جنابت اور قضائے حاجت کے دوران نہ کیا جائے۔
4. دم کرنے اور کرانے والا یہ عقیدہ رکھے کہ ذاتی طور پر دم فائدہ مند نہیں، بلکہ مؤثر حقیقی صرف اللہ کی ذات ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے آپ کو دم کیا، دوسروں کو بھی دم کرتے اور دم کرنے کا حکم بھی دیتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، نَفَثَ فِي كَفَّيْهِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَبِالْمُعَوِّذَتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَمَا بَلَغَتْ يَدَاهُ مِنْ جَسَدِهِ (صحیح البخاری، الطب: 5758)
رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں پر قل ھو اللہ احد اور معوذ پڑھ کر پھونکتے پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور جسم کے جس حصے تک ہاتھ جاتا وہاں پھیرتے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کلمات ذیل سے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کرتے اور فرماتے تھے: ’’تمھارے دادا حضرت ابراہیم ؑ بھی انہی کلمات سے حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کو دم کرتے تھے۔
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ (صحیح البخاري، أحاديث الأنبياء: 3371)
میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعے سے ہر شیطان، زہریلے جانور اور ہر ضرر رساں نظر کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔
سیدہام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کی چہرے پر سیاہ دھبے تھے تو آپ نے فرمایا:
اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ (صحیح البخاري، الطب: 5739)
اسے دم کراؤ کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے
دم کرکے اجرت لینا بھی جائز ہے، جیسا کہ مخصوص حالات کے پیش نظر سيدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ایک سردار پر سورۂ فاتحہ سے دم کرنے کی اجرت طے کی تھی۔ پھر دم کرکے فیس وصول کی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا، بلکہ حوصلہ افزائی کے طور پر فرمایا:
وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ (صحیح البخاري، الطب: 5749)
اس میں میرا بھی حصہ رکھو۔
لیکن دم کرنے کے لئے ہمہ وقتی سروس اور اسے پیشہ یا ذریعہ معاش بنانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:
• اس کے لئے ہمہ وقت کی فراغت اور اسے پیشہ بنانے کا ثبوت اسلاف سے نہیں ملتا۔
• ایسا کرنے سے دم کی بجائے دم کرنے والے کی اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ دم اصل اور دم کرنے والا اس کے تابع ہے، اس لئے ہر وہ ذریعہ جو کلام اللہ اور دم کی ثقاہت کمزور کرے اس کا سد باب بہت ضروری ہے، لہٰذا دم کرنا اور اس پر اجرت(فیس) لینا تو جائز ہے، لیکن ہمہ وقتی سروس کی صورت میں اسے ذریعہ معاش بنا لینا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ کسی صحابی پر دم کرکے معاوضہ وغیرہ نہیں لیا، تاہم دم کے عوض طے شدہ معاوضہ کے متعلق یہ ضرور فرمایا تھا کہ میرا بھی اس میں حصہ رکھو، جیسا کہ صحیح بخاری کے حوالہ سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔
والله أعلم بالصواب.