سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
قبر پر قرآن پڑھنا
  • 6028
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-26
  • مشاہدات : 205

سوال

كيا قبر پکی کرنا منع ہے اور كيا قبر پر قرآن پڑھنے سے منع كيا گیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبروں کو پختہ کرنا اور اس پر قبہ وغیرہ بنانا حرام اور ناجائز ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ (صحیح مسلم، الجنائز: 970)

رسول اللہﷺ نے منع فرمایا کہ قبر کو پکا کیا جائے اور اس پر مجاور بن کر بیٹھا جائے اوراس پر عمارت (قبّہ وغیرہ) بنائی جائے۔

سنن نسائی میں صحیح سند کے ساتھ یہ الفاظ بھی آئے ہیں:

 أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ (سنن نسائی، الجنائز: 2027) (صحیح)

یا اس پر کچھ لکھا جائے۔ (یعنی قبر پر کچھ لکھنا بھی منع ہے)

ابو الہیاج اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ (صحيح مسلم، الجنائز: 969)

سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمھیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے(زمین کے) برابر کر دینا۔

1. قبروں کو پختہ بنانا شرک کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ اس طرح قبر میں دفن  شخص  کی تعظیم ہوتی ہے، اور آہستہ آہستہ بات اس کی پوجا پاٹ تک پہنچ جاتی ہے۔

قبر پر قرآن پڑھنا:

کسی کی قبر پر کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا حرام اور بدعت ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ان کے حق میں (دعا کے لئے) کیسے کہوں؟ آپﷺ نے فرمایا:

ألَا أُحَدِّثُكم عنِّي وعن رسولِ الله صلَّى الله عليه وسلَّم، قلنا: بلى.. الحديث، وفيه: قالت: قلْتُ: كيف أقولُ لهم يا رسولَ الله؟ قال: قولي: السَّلامُ على أهلِ الدِّيارِ من المؤمنينَ والمُسْلمينَ، ويَرْحَمُ اللهُ المُسْتَقْدمينَ مِنَّا والمُسْتَأْخرينَ، وإنَّا إن شاءَ الله بكم لَلاحقونَ (صحیح مسلم، الجنائز: 974)

تم کہو، مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان ٹھکانوں میں رہنے والوں پر سلامتی ہو، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے، اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وہ قبروں کی زیارت کے موقع پر کیا کہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مذکورہ بالا دعا سکھائی۔ ا گر قبروں پر سورہ فاتحہ یا قرآن کی دیگر سورتیں پڑھنا جائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور  ان کی رہنمائی فرماتے ۔

سيدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فر یا:

 لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنْ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین وقصرها: 780)

اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ شیطان اس گھر سے بھا گتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھرمیں سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے اور گھروں کو قبرستان بنانے سے منع کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان قرآن پڑھنے کی جگہ نہیں ہے۔

1. نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم  کثرت کے ساتھ قبرستان جایا کرتے اور فوت شدگان كے ليے مختلف دعائيں كرتے تھے، ليكن آپ  صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ ثابت نہيں كہ آپ  نے قبروں كے پاس فوت شدگان كے ليے قرآن مجيد كى تلاوت كى ہو، يا كوئى سورت پڑھى ہو۔ اگر يہ کام جائز ہوتا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم ضرور كرتے، اور اپنے صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم کو بھى اس حوالے سے رہنمائی فرماتے۔ جب اسباب ہونے كے باوجود رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ كام نہيں كيا تو يہ اس كے ناجائز ہونے كى دليل ہے۔ صحابہ كرام رضى اللہ عنہم بھى  آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے نقش  قدم پر چلے اور انہوں نے بھى قبروں كى زيارت كے وقت فوت شدگان كے ليے دعا کرنے  پر ہى اكتفا كيا۔ کسی صحابی سے بھى ثابت نہيں كہ اس نے  قبروں كى زيارت كرتے وقت فوت شدگان كے ليے قرآن مجيد پڑھا ہو، لہذا یہ کام حرام اور بدعت ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ (صحيح مسلم، الأقضية:1718).

جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے