الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کا اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو زکاۃ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر وہ محتاج اور ضرورت مند ہے اور باپ صاحب ثروت ہے تو اس پر اپنی طلاق یافتہ بیٹی کے اخراجات اٹھانا لازم ہے، لیکن اگر باپ اپنی طلاق یافتہ بیٹی کو زکاۃ کا مال اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے دیتا ہے تو جائز ہے کیونکہ باپ پر اپنی اولاد کے قرض کی ادائیگی لازمی نہیں ہے۔ ایسے ہی اگر باپ کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ اپنی بیٹی کی کفالت کرسکے تو پھر بھی اسے زکاۃ دے سکتا ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويجوز صرف الزكاة إلى الوالدين وإن علوا - يعني الأجداد والجدات - وإلى الولد وإن سفل - يعني الأحفاد - إذا كانوا فقراء وهو عاجز عن نفقتهم، وكذا إن كانوا غارمين أو مكاتبين أو أبناء السبيل، وإذا كانت الأم فقيرة ولها أولاد صغار لهم مال ونفقتها تضر بهم أعطيت من زكاتهم. (الاختيارات: (ص 104)
والدین ، دادا اور دادی اگر فقیر محتاج ہویا اولاد میں سے کوئی ضرورت مند ہواور وہ ان کے اخراجات نہ اٹھا سکتا ہو تو انہیں زکاۃ دینا جائز ہے۔ اسی طرح اگر وہ مقروض ، مکاتب یا مسافر ہوں (تو انہیں زکاۃ دینا جائز ہے) ۔ ایسے ہی اگر ماں محتاج ہو اور اس کی اولاد صاحب مال ہو، لیکن ماں کے اخراجات اٹھانے سے انہیں نقصان ہو تو وہ اپنے مال کی زکاۃ ماں کو دے سکتے ہیں۔
والله أعلم بالصواب.