سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر غلطی سے گھر کے واش روم کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
  • 6002
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-25
  • مشاہدات : 121

سوال

ہمارے گھر کی تعمیر میں ایک بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے وہ یہ کہ چند کمروں کے واش روم کا رخ کعبہ کی طرف ہے۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہو گا؟ کیا چار دیواری ہونے یا ترچھا ہو کر بیٹھنے سے فرق پڑتا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء کے اقوال میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ کھلی جگہ میں جہاں قضائے حاجت کرتے ہوئے انسان اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے۔

سیدنا ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الغَائِطَ، فَلاَ يَسْتَقْبِلِ القِبْلَةَ وَلاَ يُوَلِّهَا ظَهْرَهُ، شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا (صحيح البخاري، الوضوء: 144)

جب کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلے کی طرف نہ منہ کرے اور نہ پشت، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔

سیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا (صحيح مسلم، الطهارة: 265)

جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے، اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے۔

 

لیکن اگر قضائے حاجت کرتے ہوئے انسان اور قبلے کے درمیان کوئی چیز حائل ہو، جیسے کوئی درخت، پہاڑ یا دیوار وغیرہ تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا جائز ہے۔

  سیدنا عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

 ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ القِبْلَةِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّأْمِ (صحيح البخاري، الطهارة: 148، صحيح مسلم، الطهارة: 266)

میں ایک دن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر اپنی کسی حاجت کے پیش نظر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ قبلے کی طرف پشت اور شام (بیت المقدس) کی طرف منہ کیے ہوئے قضائے حاجت کر رہے ہیں۔

   مروان اصفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری قبلہ رخ بٹھائی اور پھر اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے لگے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا:

بَلَى إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ (سنن أبي داود، الطهارة: 11) (صحيح)

 ہاں! کھلی فضا میں اس سے روکا گیا ہے مگر جب تمہارے اور قبلے کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو کوئی حرج نہیں۔

 

1. اگر گھر تعمیر نہیں کیا، لیکن مستقبل میں تعمیر کرنے کا اردہ ہے تو اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ بیت الخلاء اس طرح تعمیر کیا جائے کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ  نہ ہو۔ ہاں! اگر غلطی سے گھر میں بیت الخلاء اس طرح تعمیر کر دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے