سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
غیر اللہ سے مانگنا
  • 5992
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-04
  • مشاہدات : 64

سوال

غیر اللہ سے مانگنا کیسا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگنا یا کسی ولی، بزرگ کو مصیبت کے وقت پکارنا، جیسے یا علی مدد، یا غوث پاک مدد وغیرہ کہنا شرک ہے؛  کیوں کہ مصیبت زدوں کی مدد کرنے والا صرف اور صرف  اللہ تعالی ہے۔ نفع و نقصان کا مالک صرف اور صر ف اللہ تعالی ہے۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَوَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. (الأنعام: 17).

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

اور فرمایا:

وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (20) أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (21) إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (الأنعام: 20-22)

اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے۔تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ بہت تکبر کرنے والے ہیں۔ 

بھٹوی صاحب رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی بے بسی اور عجز کے بیان کے لیے تین اوصاف بیان فرمائے، پہلا یہ کہ وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، خالق صرف ایک ہی ہے، کیونکہ اگر ان کے معبود نیک یا بد فوت شدہ لوگ ہیں تو ان کا خالق اللہ ہے اور وہ نہ زندگی میں کچھ پیدا کر سکتے تھے نہ اب کر سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (۱۷)، سورۂ رعد (۱۶) اور سورۂ حج (۷۳) میں دیکھیں اور اگر ان کے مجسمے یا ان کی قبریں ہیں تو وہ بھی کچھ پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ انھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :  [ الصافات : ۹۵ ] ’’کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو۔‘‘ اگر تمھارے معبود تراشے ہوئے بت ہیں یا قبریں، تو خالق ان کا بھی اللہ تعالیٰ ہے تم نہیں، جیسا کہ اس سے اگلی آیت میں فرمایا :  [ الصافات : ۹۶ ] ’’حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم بناتے ہو۔‘‘

دوسرا وصف یہ کہ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں۔ اس آیت میں ’’ اَمْوَاتٌ ‘‘ سے مراد وہ (نیک یا بد) مردہ لوگ ہیں جن کی مشرک لوگ عبادت کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  ’’اور وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔‘‘ اٹھائے جانے کے شعور کا لفظ جمادات (بتوں اور قبروں) پر صادق نہیں آتا، بلکہ صاحب عقل انسانوں، جنوں اور فرشتوں ہی پر صادق آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف مردہ کہنے پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ فرمایا :  ’’زندہ نہیں ہیں۔‘‘ اس سے قبر پرستوں کا واضح رد ہو گیا جو کہتے ہیں کہ قبروں میں دفن شدہ بزرگ مردہ نہیں زندہ ہیں اور ہم زندوں ہی کو پکارتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہو گیا کہ موت وارد ہونے کے بعد دنیوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہوتی، نہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے، پھر ان سے کسی نفع یا نقصان کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

   وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ : یہ تیسرا وصف ہے کہ انھیں اپنے اٹھائے جانے کا وقت بھی معلوم نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معبود کے لیے یوم بعث کا جاننا ضروری ہے۔ (روح المعانی) اور یہ بات کہ مردے کب اٹھائے جائیں گے اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف

گزشتہ تمام دلائل اور احسانات بیان کرنے کے بعد ان کا نتیجہ اور خلاصہ بیان فرمایا کہ تمھارا معبود جس کی عبادت حق ہے، وہ ایک ہی ہے۔ ’’ وَاحِدٌ ‘‘ کا مطلب ہے کہ وہ ایک ہے، کوئی اس کا ثانی یا شریک نہیں، نہ ذات میں نہ صفات میں۔

اور فرمایا:               

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (191) وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ (192) وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَى لَا يَتَّبِعُوكُمْ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ (193) إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (الأعراف: 191-194)

کیا وہ انھیں شریک بناتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔اور نہ ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔ اور اگر تم انھیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو وہ تمھارے پیچھے نہیں آئیں گے، تم پر برابر ہے کہ تم نے انھیں بلایا ہو، یا تم خاموش ہو۔بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمھاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔

اور فرمایا:

يَاأَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (73) مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج: 73-74)

اے لوگو! ایک مثال بیان کی گئی ہے، سو اسے غور سے سنو! بے شک وہ لوگ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، ہرگز ایک مکھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ اس کے لیے جمع ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے وہ اسے اس سے ہرگز چھڑا نہ پائیں گے۔ کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے، سب پر غالب ہے۔

مختصرا یہ کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا  شرک ہے، اور مشرک کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن مجید کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کریں، تاکہ توحید کو سمجھ سکیں اور شرکیہ، کفریہ کاموں سے خود کو بچا سکیں۔

مزید اس موضوع پر پڑھنے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

توحید اور شرکیہ امور کا تفصیلی بیان از عبد اللہ ناصر رحمانی

توحید اور شرک کی حقیقت قرآن وسنت کی روشنی میں  از صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے