سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر کوئی شخص امام کے ساتھ فاتحہ نہ پڑھ سکے تو کیا وہ سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہے گا؟
  • 5987
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-26
  • مشاہدات : 656

سوال

اگركوئی شخص جماعت کے ساتھ دیر سے ملے اور امام کے ساتھ سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکے، تو كيا وه سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہے گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت کرنا رکن ہے۔ 

سیدنا عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ (صحیح البخاری، الأذان: 756، صحیح مسلم، الصلاة: 394)

جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔

دوسری حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع فرمائی مگر وہ آپ ﷺ پر بھاری ہو گئی۔ (یعنی آپ اس میں رواں نہ رہ سکے) جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو کہا:

لَعلَّكم تَقرؤونَ خلفَ إمَامِكم؟ " قلنا: نعم، هذّا يا رسول الله. قال: "لا تَفعَلُوا إلا بفاتحةِ الكتاب، فإنَّه لا صلاةَ لمن لم يَقرَأبها(سنن أبي داود، الصلاة: 823)  (صحیح)

شاید کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ پڑھا کرو مگر فاتحہ، کیونکہ جو اسے (فاتحہ کو) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔

مقتدی کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنے کا کوئی معین وقت نہیں ہے۔ اگر امام سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہتا ہے تاکہ مقتدی سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تو پھر بہتر یہ ہے کہ مقتدی امام کی قراءت خشوع و خضوع کےساتھ سنے اور جب وہ فاتحہ پڑھنے کے بعد خاموش رہے تو سورہ فاتحہ پڑھ لے ۔ اگر امام سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے کے بعد خاموش نہیں ہوتا تو مقتدی جب چاہے سورہ فاتحہ پڑھ سکتا ہے، امام سے پہلے پڑھ لے یا ساتھ ساتھ پڑھ لے۔ بعض اوقات امام دعائے استفتاح پڑھنے میں دیر کر دیتا ہے اس دوران بھی پڑھی جا سکتی  ہے۔

اگر مقتدی نے امام سے پہلے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے تو وہ آمین کہے گا، کیونکہ آمین کہنے کا سبب پایا گیا ہے اور جب امام آمین کہے گا  پھر دوبارہ آمین کہے گا۔ ایسے ہی اگر اس نے سورہ فاتحہ کی تلاوت امام کے ساتھ آمین کہنے کے بعد کی ہے تو جب وہ اپنی فاتحہ ختم کرے گا آمین کہے گا۔ البتہ اگر مقتدی اور امام ایک ساتھ ہی فاتحہ ختم کریں تو امام کی آمین کے ساتھ  ایک ہی مرتبہ آمین کہنا جائز ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں   کہ نبی ﷺ نے فرمایا: 

إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ المَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ - وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: آمِينَ (صحيح البخاري، الأذان: 780، صحيح مسلم، الصلاة: 410)

جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ ابن شہاب کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خود بھی آمین کہا کرتے تھے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے