سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عورت كو كتنی چادروں میں کفن دیا جائے گا؟
  • 5986
  • تاریخ اشاعت : 2025-07-09
  • مشاہدات : 124

سوال

عورت كو كتنی چادروں میں کفن دیا جائے گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کا کفن مرد کے کفن کی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح مرد کو تین  بڑی چادروں میں کفن دیا جاتا ہے، بالکل ایسے ہی عورت کو کفن دیا جائے گا ۔
 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابِ سُحُولٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ (صحيح البخاري، الجنائز: 1271، صحيح مسلم، الجنائز: 941)
نبی کریم ﷺ کو سحولیہ بستی کے تیار شدہ تین سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی۔
 

لیکن اکثر علماء کی رائے ہے کہ عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دینا افضل ہے، کیونکہ زندگی میں عورت کا ستر مرد سے زیادہ ہے، مرنے کے بعد بھی زیادہ ہو گا۔ یعنی عورت کو کفن دیتے وقت پہلے تہہ بند باندھی جائے گی، پھر اوپر والے حصے پر قمیض پہنائی جائے گی، اس کے بعد سر کے ارد گرد دوپٹہ لپیٹا جائے گا، پھر دو بڑی چادروں  میں پورے جسم کو لپیٹ دیا جائے گا۔ اس رائے کی دلیل سیدہ  لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ کی بیان کردہ حدیث ہے، لیکن اس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

سیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ بیان کرتی ہیں کہ میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے سیدہ ام کلثوم دختر رسول اللہ ﷺ کو ان کی وفات کے وقت غسل دیا تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیں (ان کے کفن کے لیے) سب سے پہلے اپنا تہبند عنایت فرمایا، پھر قمیص، پھر اوڑھنی، پھر ایک چادر ان کو لپیٹنے کے لیے، پھر ان (کپڑوں) کے بعد ان (دختر محترمہ) کو ایک دوسرے کپڑے میں لپیٹا گیا۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کفن لیے دروازے کے پاس تشریف فرما تھے اور ہمیں ایک ایک کپڑا دیتے جاتے تھے۔ (سنن أبي داود،  الجنائز: 3157) (ضعيف) 
اس حدیث کا ایک شاہد ہے جس کو امام جوزقی نے روایت کیا ہے۔ اس شاہد کو امام ابن حجر رجمہ اللہ نے فتح الباری میں صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھیں: فتح الباری از ابن حجر، جلد3، ص133)

والله أعلم بالصواب. 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے