سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا حیض کی حالت میں طلاق دی جا سکتی ہے؟
  • 5978
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-25
  • مشاہدات : 71

سوال

کیا حیض کی حالت میں طلاق دی جا سکتی ہے؟ اگر انسان نہایت جنونی کیفیت میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے طلاق دے تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔ 

 

حالت حیض میں دی گئی طلاق  

ارشاد باری تعالی ہے: 

يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنّ ﱠ (الطلاق: 1)

اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو۔

مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ  ﱡفَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنّ ﱠ  سے مراد یہ ہے کہ تم عورتوں کو ان کی عدت کے وقت طلاق دو، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو پاکی کی حالت میں ہمبستری کیے بغیر طلاق دو، تا کہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو، کیوں کہ اگر تم حالت حیض میں طلاق دو گے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہو جائے گی، کیوں کہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انہیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل ٹھہر جائے ، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گاکہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہو گا یا وضع حمل کا۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. (صحيح البخاري، الطلاق: 5251، صحيح مسلم، الطلاق: 1471).

اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے،پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسےحیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دےدے، کیوں کہ یہ وہ عدت ہے جس کے وقت اللہ تعالی نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔

سعید بن جبیر  رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں  کہ  سیدنا  عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

حُسِبَتْ عَلَيَّ بِتَطْلِيقَةٍ (صحیح البخاري، الطلاق: 5253)

 یہ طلاق مجھ پر شمار کی گئی۔

مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خود وضاحت کر دی ہے کہ ان کی حیض کی حالت میں دی گئی طلاق شمار ہوئی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا تھا اور رجوع تب ہی ہوتا ہے جب طلاق واقع ہو چکی ہو۔

 

واضح رہے کہ طلاق دینے کا سنت طریقہ درج ذیل ہے:

1. انسان اپنی بیوی کو پاکی کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے۔

2. ایک طلاق دے، ایک سے زائد طلاقیں نہ دے۔

3. طلاق دینے کے بعد اگر رجوع کرنا چاہتا ہے توکرلے ورنہ عورت کی عدت ختم ہونے دے اور اسے چھوڑ دے۔ 

مندرجہ بالا سطور سے واضح ہوتا ہے کہ حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دینا خلاف سنت ہے، ایسے کرنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے، اسے اپنے گناہ سے توبہ کرنی چاہیے، اور یہ عزم بھی کرے کہ آئندہ ایسی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہو گا۔

لیکن اگر کسی آدمی نے حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو اس کی طلاق ہو جائے گی جیسا کہ اوپر وضاحت گزر چکی ہے۔

شدید غصے کی حالت میں طلاق دینا

اگر انسان کو غصہ اتنا زیادہ تھا کہ اس کے اعصاب اس کے قابو میں نہیں تھے، شدت غضب کی وجہ سے اسے شعور اور احساس بھی نہ ہو کہ وہ اپنی زبان سے کیا کہہ رہا ہے ، اس حالت میں اگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔

 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لا طَلاَقَ ولا عِتَاقَ في غَلاَق. (سنن أبي داود،طلاق: 2193) (صحيح).

اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ہوتى ہے۔

اہل علم كى ايك جماعت نے " اغلاق " كا معنى اكراہ يعنى جبر يا غصہ كيا ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو جس وجہ سے اس کے اعصاب بے قابو ہو جائیں تو یہ شخص پاگل اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہے، اس كى طلاق واقع نہيں ہوگى۔

 

اگرانسان مکمل طور پر ہوش وحواس میں تھا، اورا س  کو ادراک تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کر رہا ہے تو پھر طلاق واقع ہو جائے گی ۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے