سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عورتوں کا جمعہ کے لئے مسجد جانا
  • 5967
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-21
  • مشاہدات : 102

سوال

کیا عورتوں کو نماز جمعہ کے لئے مسجد جانا چاہیے؟ قرآن و حدیث سےجواب دیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورتوں پر جمعہ پڑھنا واجب نہیں ہے، وہ گھر میں ہی ظہر کی نماز ادا کریں گی ۔

سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ (سنن أبي داود،  تَفْرِيعِ أَبْوَابِ الْجُمُعَةِ: 1067) (صحيح)

جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ لازماً فرض ہے‘ سوائے چار قسم کے لوگوں کے۔ غلام مملوک، عورت، بچہ اور مریض۔

1. اگر عورت باپردہ، زیب و زینت اختیار نہ کرتے ہوئے امام کا خطبہ سننے اور اور خیر کی غرض سے جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد جانا چاہتی ہو تو اسے منع نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کے لیے افضل یہی ہے کہ گھر میں نماز ظہر ادا کرے۔

  سیدنا ابن عمر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ  (سنن أبي داود،   الصلاة: 567) (صحيح)

اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو، مگر ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے