الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب انسان کسی عورت سے شادی کر لیتا ہے تو اس کی ماں (ساس) سے نکاح کرنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ (النساء: 23)
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں۔
لہذا جیسے ہی آپ کا نکاح ہوا، آپ کی ساس ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ بوسہ لینے کا حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن رخسار (گال) پر بوسہ دینے سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ شہوت کا خدشہ ہے۔
والله أعلم بالصواب.