سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ساس کو رخسار (گال) پر بوسہ دینا
  • 5964
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-10
  • مشاہدات : 71

سوال

میری ساس میری پھوپھو کی بیٹی ہیں ۔مین بچپن سے ہی ان کو باجی بولتا ہوں، کیونکہ وہ عمر میں مجھ سے تقریبا 20سال بڑی ہیں۔ چونکہ ساس ماں کی طرح ہوتی ہے اور میں ان کو اپنی ماں کی طرح سمجھنے لگ گیا ہوں ۔ جب میں شادی کے بعد ان کے گھر ملنے گیا تو میں نے ان کو ملتے وقت محبت اور عقیدت کے طور پہ ان کی گال (رخسار )پہ بوسہ لے لیا ۔ بعد میں مجھے حرمت مصاہرت کے بارے میں پتہ چلا تو مجھے آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ کیا گال(رخسار) پر بغیر شہوت کے بوسہ لینے سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب انسان کسی عورت سے شادی کر لیتا ہے تو اس کی ماں (ساس) سے نکاح کرنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ (النساء: 23)
حرام کی گئیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمھاری دودھ شریک بہنیں اور تمھاری بیویوں کی مائیں۔

لہذا جیسے ہی آپ کا نکاح ہوا، آپ کی  ساس ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ بوسہ لینے کا حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن رخسار (گال) پر بوسہ دینے سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ شہوت کا خدشہ ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے